تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 77. Al-Mursalaat · Ayah 3
Tafseerوَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ﴿3﴾
- وَّالنّٰشِرٰتِبادل اٹھا کر لانیوالی ہواؤں کی قسم
- نَشْرًاپھیلانے والی
Translation · Dure-Mansoor
ان ہواؤں کی جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
۔ آیت والنشرت نشرا سے مراد ہے ہو۔
15۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی والمرسلت عرفا سے مراد ہے ہوا آیت فالعصفت عصفا سے مرد ہے ہوا آیت فالفرقت فرقا سے مراد ہے قرآن کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا۔ آیت فالملقیت ذکرا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو رسولوں پر ذکر القا کرتے ہی پھر رسول یہی ذکر بنی آدم کے پاس لاتے ہیں حجت تمام کرنے کے لیے یا ڈرانے کے لیے کافروں کو پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق کے لیے اتمام حجت ہے ڈراوا ہے۔
16۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالعصفت عصفا والنشرات نشرا فالفرقات فرقا فالملقیت ذکرا۔ اور ان فرشتوں کی قسم جن کو پیہم احکام دے کر بھیجا جاتا ہے۔ اور وہ احکام کی تعمیل میں تیزی کے ساتھ چلتے ہیں اور اللہ کے احکام کو زمین پر پھیلاتے ہیں اور حق و باطل میں تفریق کردیتے ہیں اور انبیاء کے دلوں میں وحی کا القاء کرتے ہیں۔ یا مومنوں کے دلوں میں ذکر خدا سے یقین پیدا کرتے ہیں۔ یعنی ان سب سے مراد فرشتے ہیں۔
17۔ ابن جریر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے مراد فرشتے ہیں۔
18۔ عبد بن حمید وابو الشیخ فی العظمہ وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے مراد وہ رسول ہیں جن کو معروف یعنی نیکی کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔ آیت فالعصفت عصفا سے ہوا مرد ہے آیت والمرسلت عرفا سے بارش مراد ہے آیت فالفرقت فرا سے رسل (علیہم السلام) مراد ہیں۔
19۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے دوسری سند سے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو نیکیوں کے ساتھ آتے ہیں آیت فالعصفت عصفا سے مراد ہے تیز ہوائیں آیت والنشرات نشرا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کتابوں کو پھیلاتے ہیں آیت فالفرقت فرقا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب قرآن مجید اور دوسری کتابیں لے کر آتے ہیں حجت تمام کرنے کے لیے یا اللہ کی جانب سے ڈرانے کے لیے لوگوں کی طرف آتے ہیں اور لوگوں سے مراد وہ رسول ہیں جو حجت بھی تام کرتے ہیں اور ڈراتے بھی ہیں۔
20۔ ابن الانبار نے الوقف والابتداء میں والحاکم وصححہ وضعفہ الذہب نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا قرآن تفخیم یعنی تعظیم تکریم کے ساتھ نازل کیا گیا۔ عمار بن عبدالملک (رح) نے فرمایا جیسے اس کی طرز پر آیت عذرا او نذرا۔ الصدقین۔ الا لہ الخلق والامر۔ فرمایا۔ اور ان کے مشابہ الفاظ قرآن میں ہیں۔