تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 10. Yunus · Ayah 11
وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿11﴾
- وَلَوْاور اگر
- يُعَجِّلُجلد بھیجدیتا
- اللّٰهُاللہ
- لِلنَّاسِلوگوں کو
- الشَّرَّبرائی
- اسْتِعْجَالَھُمْجلد چاہتے ہیں
- بِالْخَيْرِبھلائی
- لَقُضِيَتو پھر ہوچکی ہوتی
- اِلَيْهِمْان کی طرف
- اَجَلُھُمْان کی عمر کی میعاد
- فَنَذَرُپس ہم چھوڑ دیتے ہیں
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- لَا يَرْجُوْنَوہ امید نہیں رکھتے
- لِقَآءَنَاہماری ملاقات
- فِيْمیں
- طُغْيَانِهِمْان کی سرکشی
- يَعْمَهُوْنَوہ بہکتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا تذکرہ فرماتے ہیں
فرمان ہے کہ میرے الطاف اور میری مہربانیوں کو دیکھو، کہ بندے کبھی کبھی تنگ آکر، گھبرا کر اپنے لیے، اپنے بال بچوں کے لیے اپنے مالک کے لیے، بد دعائیں کر بیٹھتے ہیں لیکن میں انہیں قبول کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔ ورنہ وہ کسی گھر کے نہ رہیں جیسے کہ میں انہی چیزوں کی برکت کی دعائیں قبول فرمالیا کرتا ہوں۔ ورنہ یہ تباہ ہوجاتے۔ پس بندوں کو ایسی بدعاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ چناچہ مسند بزار کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ اپنی جان و مال پر بد دعا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت موافقت کر جائے اور وہ بد دعا قبول ہوجائے۔ اسی مضمون کا بیان (وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا 11) 17۔ الإسراء :11) میں ہے۔ غرض یہ ہے کہ انسان کا کسی وقت اپنی اولاد مال وغیرہ کے لیے بد دعا کرنا کہ اللہ اسے غارت کرے وغیرہ۔ ایک نیک دعاؤں کی طرح قبولیت میں ہی آجا کرے تو لوگ برباد ہوجائیں۔