تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 10. Yunus · Ayah 9

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿9﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
    3. وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
    4. الصّٰلِحٰتِنیک
    5. يَهْدِيْهِمْانہیں راہ دکھائے گا
    6. رَبُّھُمْان کا رب
    7. بِاِيْمَانِهِمْان کے ایمان کی بدولت
    8. تَجْرِيْبہتی ہوں گی
    9. مِنْسے
    10. تَحْتِهِمُان کے نیچے
    11. الْاَنْهٰرُنہریں
    12. فِيْمیں
    13. جَنّٰتِباغات
    14. النَّعِيْمِنعمت
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہہ رہی ہوں گی
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
خوش انجام خوش نصیب لوگ نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو مانا، فرمانبرداری کی نیکیوں پر چلتے رہے، انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے راہ مل جائے گی۔ پل صراط سے پار ہوجائیں گے۔ جنت میں پہنچ جائیں گے، نور مل جائے گا۔ جس کی روشنی میں چلیں پھریں گے۔ پس ممکن ہے کہ (آیت بایمانھم) میں با سببیت کی ہو۔ اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو ؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت بد صورت، بدبو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔ یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کرکے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔ ان کے صرف سبحانک اللھم کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہوجائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔ ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہوگا۔ وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی۔ در و دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔ فرشتے بھی ہر ایک دروازے سے آکر سلام کریں گے۔ آخری قول ان کا اللہ کی ثناء ہوگا۔ وہ معبود برحق ہے اول آخر حمد و تعریف کے سزاوار ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی حمد بیان فرمائی مخلوق کی پیدائش کے شروع میں، اس کی بقاء میں، اپنی کتاب کے شروع میں، اور اس کے نازل فرمانے کے شروع میں۔ اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں جیسے (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا ڸ) 18۔ الكهف :1) وغیرہ۔ وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد وثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اہل جنت سے تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے۔ یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لا محالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔