تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 11. Hud · Ayah 123
وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿123﴾
- وَلِلّٰهِاور اللہ کے پاس
- غَيْبُغیب
- السَّمٰوٰتِآسمانوں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- وَاِلَيْهِاور اسی کی طرف
- يُرْجَعُباز گشت
- الْاَمْرُکام
- كُلُّهٗتمام
- فَاعْبُدْهُسو اس کی عبادت کرو
- وَتَوَكَّلْاور بھروسہ کرو
- عَلَيْهِاس پر
- وَمَااور نہیں
- رَبُّكَتمہارا رب
- بِغَافِلٍغافل (بےخبر)
- عَمَّااس سے جو
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم خدا ہی کو ہے اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بےخبر نہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
علم غیب اور حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ ہی کو سزاوار ہے
آسمان و زمین کے ہر غیب کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ عزوجل ہی ہے۔ اسی کی سب کو عبادت کرنی چاہیے اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ جو بھی اس پر بھروسہ رکھے وہ اس کے لیے کافی ہے۔ حضرت کعب ؒ فرماتے ہیں کہ تورات کا خاتمہ بھی انہیں آیتوں پر ہے اللہ تعالیٰ مخلوق میں سے کسی کے کسی عمل سے بیخبر نہیں۔