تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 11. Hud · Ayah 28

  1. قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ﴿28﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. يٰقَوْمِاے میری قوم
    3. اَرَءَيْتُمْتم دیکھو تو
    4. اِنْاگر
    5. كُنْتُمیں ہوں
    6. عَلٰيپر
    7. بَيِّنَةٍواضح دلیل
    8. مِّنْ رَّبِّيْاپنے رب سے
    9. وَاٰتٰىنِيْاور اس نے دی مجھے
    10. رَحْمَةًرحمت
    11. مِّنْ عِنْدِهٖاپنے پاس سے
    12. فَعُمِّيَتْوہ دکھائی نہیں دیتی
    13. عَلَيْكُمْتمہیں
    14. اَنُلْزِمُكُمُوْهَاکیا ہم وہ تمہیں زبردستی منوائیں
    15. وَاَنْتُمْاور تم
    16. لَهَااس سے
    17. كٰرِهُوْنَبیزار ہو
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ تو کیا ہم اس کے لیے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بلا اجرت خیر خواہ سے ناروا سلوک حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کو جواب دیا کی سچی نوبت یقین اور واضح چیز میرے پاس تو میرے رب کی طرف سے آچکا ہے۔ بہت بڑی رحمت و نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی اور وہ تم سے پوشیدہ رہی تم اسے نہ دیکھ سکے نہ تم نے اس کی قدر دانی کی نہ اسے پہنچانا بلکہ بےسوچے سمجھے تم نے اسے دھکے دے دئیے اسے جھٹلانے لگ گئے اب بتاؤ کہ تمہاری اس ناپسندیدگی کی حالت میں میں کسیے یہ کرسکتا ہوں کہ تمہیں اس کا ماتحت بنا دوں ؟