تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 11. Hud · Ayah 49

  1. تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ع﴿49﴾

    1. تِلْكَیہ
    2. مِنْسے
    3. اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِغیب کی خبریں
    4. نُوْحِيْهَآہم وحی کرتے ہیں اسے
    5. اِلَيْكَتمہاری طرف
    6. مَانہ
    7. كُنْتَ تَعْلَمُهَآتم ان کو جانتے تھے
    8. اَنْتَتم
    9. وَلَااور نہ
    10. قَوْمُكَتمہاری قوم
    11. مِنْسے
    12. قَبْلِ ھٰذَااس سے پہلے
    13. فَاصْبِرْپس صبر کریں
    14. اِنَّبیشک
    15. الْعَاقِبَةَاچھا انجام
    16. لِلْمُتَّقِيْنَپر وہیزگاروں کے لیے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
یہ تاریخ ماضی وحی کے ذریعے بیان کی گئی ہے قصہ نوح اور اسی قسم کے گذشتہ واقعات وہ ہیں جو تیرے سامنے نہیں ہوئے لیکن بذریعہ وحی کے ہم تجھے انکی خبر کر ہے ہیں اور تو لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت اس طرح کھول رہا ہے کہ گویا ان کے ہونے کے وقت تو وہیں موجود تھا۔ اس سے پہلے نہ تو تجھے ہی انکی کوئی خبر تھی نہ تیری قوم میں سے کوئی اور ان کا علم رکھتا تھا۔ کہ کسی کو بھی گمان ہو کہ شاید تو نے اس سے سیکھ لیے ہوں پاس صاف بات ہے کہ یہ اللہ کی وحی سے تجھے معلوم ہوئے اور ٹھیک اسی طرح جس طرح اگلی کتابوں میں موجود ہیں۔ پس اب تجھے ان کے ستانے جھٹلانے پر صبر و برداشت کرنا چاہیے ہم تیری مدد پر ہیں تجھے اور تیرے تابعداروں کو ان پر غلبہ دیں گے، انجام کے لحاظ سے تم ہی غالب رہو گے، یہی طریقہ اور پیغمبروں کا بھی رہا۔
Tafseer Ibn-e-Kaseer - 11 : 49