تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 46
یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿46﴾
- يُوْسُفُاے یوسف
- اَيُّهَا الصِّدِّيْقُاے بڑے سچے
- اَفْتِنَاہمیں بتا
- فِيْمیں
- سَبْعِسات
- بَقَرٰتٍگائیں
- سِمَانٍموٹی تازی
- يَّاْكُلُهُنَّوہ کھا رہی ہیں
- سَبْعٌسات
- عِجَافٌدبلی پتلی
- وَّسَبْعِاور سات
- سُنْۢبُلٰتٍخوشے
- خُضْرٍسبز
- وَّاُخَرَاور دوسرے
- يٰبِسٰتٍخشک
- لَّعَلِّيْٓتاکہ میں
- اَرْجِعُمیں لوٹوں
- اِلَى النَّاسِلوگوں کی طرف (پاس)
- لَعَلَّهُمْشاید وہ
- يَعْلَمُوْنَآگاہ ہوں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں)۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں