تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 51
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿51﴾
- قَالَاس نے کہا
- مَا خَطْبُكُنَّکیا حال تھا تمہارا
- اِذْجب
- رَاوَدْتُّنَّتم نے پھسلایا
- يُوْسُفَیوسف
- عَنْسے
- نَّفْسِهٖاس کا نفس
- قُلْنَوہ بولیں
- حَاشَپناہ
- لِلّٰهِاللہ کی
- مَانہیں
- عَلِمْنَاہم نے معلوم کی
- عَلَيْهِاس پر (میں)
- مِنْ سُوْٓءٍکوئی برائی
- قَالَتِبولی
- امْرَاَتُعورت
- الْعَزِيْزِعزیز
- الْئٰنَاب
- حَصْحَصَظاہر ہوگئی
- الْحَقُّحقیقت
- اَنَامیں
- رَاوَدْتُّهٗاسے پھسلایا میں نے
- عَنْسے
- نَّفْسِهٖاس کا نفس
- وَاِنَّهٗاور وہ بیشک
- لَمِنَالبتہ۔ سے
- الصّٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے