تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 88
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ﴿88﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
- عَلَيْهِاس پر۔ سامنے
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- يٰٓاَيُّهَااے
- الْعَزِيْزُعزیز
- مَسَّنَاہمیں پہنچی
- وَاَهْلَنَااور ہمارے گھر
- الضُّرُّسختی
- وَجِئْنَااور ہم آئے
- بِبِضَاعَةٍپونچی کے ساتھ (لے کر)
- مُّزْجٰىةٍنکمی (ناقص)
- فَاَوْفِپس پوری دیں
- لَنَاہمیں
- الْكَيْلَناپ (غلہ)
- وَتَصَدَّقْصدقہ کریں
- عَلَيْنَاہم پر (ہمیں)
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- يَجْزِيجزا دیتا ہے
- الْمُتَصَدِّقِيْنَصدقہ کرنے والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے