تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 13. Ar-Ra'd · Ayah 19
اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ﴿19﴾
- اَفَمَنْپس کیا جو
- يَّعْلَمُجانتا ہے
- اَنَّمَآکہ جو
- اُنْزِلَاتارا گیا
- اِلَيْكَتمہاری طرف
- مِنْسے
- رَّبِّكَتمہارا رب
- الْحَقُّحق
- كَمَنْاس جیسا
- هُوَوہ
- اَعْمٰىاندھا
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- يَتَذَكَّرُسمجھتے ہیں
- اُولُوا الْاَلْبَابِعقل والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ایک موازنہ
ارشاد ہوتا ہے کہ ایک وہ شخص جو اللہ کے کلام کو جو آپ کی جانب اترا سراسر حق مانا ہو، سب پر ایمان رکھتا ہو، ایک کو دوسرے کی تصدیق کرنے والا اور موافقت کرنے والا جانا ہو، سب خبروں کو سچ جانتا ہو، سب حکموں کو مانتا ہو، سب برائیوں کو جانتا ہو، آپ کی سچائی کا قائل ہو۔ اور دوسرا وہ شخص جو نابینا ہو، بھلائی کو سمجھتا ہی نہیں اور اگر سمجھ بھی لے تو مانتا نہ ہو، نہ سچا جانتا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسے فرمان ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی خوش نصیب ہیں، یہی فرمان یہاں ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں۔ باب یہ ہے کہ بھلی سمجھ سمجھ داروں کی ہی ہوتی ہے۔