تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 14. Ibrahim · Ayah 4

  1. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿4﴾

    1. وَاور
    2. مَآ اَرْسَلْنَاہم نے نہیں بھیجا
    3. مِنْ رَّسُوْلٍکوئی رسول
    4. اِلَّامگر
    5. بِلِسَانِزبان میں
    6. قَوْمِهٖاس کی قوم کی
    7. لِيُبَيِّنَتاکہ کھول کر بیان کردے
    8. لَهُمْان کے لیے
    9. فَيُضِلُّپھر گمراہ کرتا ہے
    10. اللّٰهُاللہ
    11. مَنْ يَّشَآءُجس کو وہ چاہتا ہے
    12. وَيَهْدِيْاور ہدایت دیتا ہے
    13. مَنْ يَّشَآءُجو کو چاہتا ہے
    14. وَهُوَاور وہ
    15. الْعَزِيْزُغالب
    16. الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ہر قوم کی اپنی زبان میں رسول یہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کی انتہائی درجے کی مہربانی ہے کہ ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا تاکہ سمجھنے سمجھانے کی آسانی رہے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی رسول کو اللہ تعالیٰ نے اس کی امت کی زبان میں ہی بھیجا ہے۔ حق ان پر کھل تو جاتا ہی ہے پھر ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے، اس کے چاہنے کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ وہ غالب ہے، اس کا ہر کام حکمت سے ہے، گمراہ وہی ہوتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں اور ہدایت پر وہی آتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں۔ چونکہ ہر نبی صرف اپنی اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا رہا اس لئے اسے اس کی قومی زبان میں ہی کتاب اللہ ملتی تھی اور اس کی اپنی زبان بھی وہی ہوتی تھی۔ آنحضرت محمد بن عبداللہ علیہ صلوات اللہ کی رسالت عام تھی ساری دنیا کی سب قوموں کی طرف آپ رسول اللہ تھے جیسے خود حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے پانچ چیزیں خصوصیت سے دی گئی ہیں جو کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں مہینے بھر کی راہ کی دوری پر صرف رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے ساری زمین مسجد اور پاکیزہ قرار دی گئی ہے، مجھ پر مال غنیمت حلال کئے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہیں تھے، مجھے شفاعت سونپی گئی ہے ہر نبی صرف اپنی قوم ہی کی طرف آتا تھا اور میں تمام عام لوگوں کی طرف رسول اللہ بنایا گیا ہوں۔ قرآن یہی فرماتا ہے کہ اے نبی اعلان کردو کہ میں تم سب کی جانب اللہ کا رسول ہوں ﷺ۔