تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 14. Ibrahim · Ayah 42

  1. وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ﴿42﴾

    1. وَلَااور نہ
    2. تَحْسَبَنَّتم ہرگز گمان کرنا
    3. اللّٰهَاللہ
    4. غَافِلًابیخبر
    5. عَمَّااس سے جو
    6. يَعْمَلُوہ کرتے ہیں
    7. الظّٰلِمُوْنَظالم (جمع)
    8. اِنَّمَاصرف
    9. يُؤَخِّرُهُمْانہیں مہلت دیتا ہے
    10. لِيَوْمٍاس دن تک
    11. تَشْخَصُکھلی رہ جائیں گی
    12. فِيْهِاس میں
    13. الْاَبْصَارُآنکھیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ہولناک منظر ہوگا کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لئے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اسکی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہوجائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے حضور کی حاضری کیلئے بےتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہوگا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔
Tafseer Ibn-e-Kaseer - 14 : 42