تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 14. Ibrahim · Ayah 52

  1. هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ع﴿52﴾

    1. هٰذَا بَلٰغٌیہ پہنچادینا (پیغام)
    2. لِّلنَّاسِلوگوں کے لیے
    3. وَاور
    4. لِيُنْذَرُوْاتاکہ وہ ڈرائے جائیں
    5. بِهٖاس سے
    6. وَلِيَعْلَمُوْٓااور تاکہ وہ جان لیں
    7. اَنَّمَااس کے سوا نہیں
    8. هُوَوہ
    9. اِلٰهٌمعبود
    10. وَّاحِدٌیکتا
    11. وَّلِيَذَّكَّرَاور تاکہ نصیحت پکڑیں
    12. اُولُوا الْاَلْبَابِعقل والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
یہ قرآن لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
تمام انسان اور جن پابند اطاعت ہیں ارشاد ہے کہ یہ قرآن دنیا کی طرف اللہ کا کھلا پیغام ہے جسے اور آیت میں نبی ﷺ کی زبانی کہلوایا گیا ہے کہ لا نذرکم بہ ومن بلغ یعنی تاکہ میں اس قرآن سے تمہیں بھی ہوشیار کر دوں اور جسے جسے یہ پہنچے یعنی کل انسان اور تمام جنات جیسے اس سورت کے شروع میں فرمایا کہ اس کتاب کو ہم نے ہی تیری طرف نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائے الخ۔ اس قرآن کریم کی غرض یہ ہے کہ لوگ ہوشیار کر دئے جائیں ڈرا دئے جائیں۔ اور اس کی دلیلیں حجتیں دیکھ سن کر پڑھ پڑھا کر تحقیق سے معلوم کرلیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور عقلمند لوگ نصیحت و عبرت وعظ و پند حاصل کرلیں۔