تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 17. Al-Israa · Ayah 18

  1. مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا﴿18﴾

    1. مَنْجو کوئی
    2. كَانَ يُرِيْدُچاہتا ہے
    3. الْعَاجِلَةَجلدی
    4. عَجَّلْنَاہم جلد دیدیں گے
    5. لَهٗ فِيْهَااس کو اس (دنیا) میں
    6. مَا نَشَآءُجتنا ہم چاہیں
    7. لِمَنْجس کو
    8. نُّرِيْدُہم چاہیں
    9. ثُمَّپھر
    10. جَعَلْنَاہم نے بنادیا
    11. لَهٗاس کے لیے
    12. جَهَنَّمَجہنم
    13. يَصْلٰىهَاوہ داخل ہوگا اس میں
    14. مَذْمُوْمًامذمت کیا ہوا
    15. مَّدْحُوْرًادور کیا ہوا (دھکیلا ہوا)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے۔ جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
طالب دنیا کی چاہت کچھ ضروری نہیں کہ دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لئے وہاں رحمت الہٰی سے دور ہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو، اللہ و رسول کو مانتا ہو، ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا۔