تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 17. Al-Israa · Ayah 53

  1. وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا﴿53﴾

    1. وَقُلْاور فرما دیں
    2. لِّعِبَادِيْمیرے بندوں کو
    3. يَقُوْلُواوہ کہیں
    4. الَّتِيْوہ جو
    5. ھِيَوہ
    6. اَحْسَنُسب سے اچھی
    7. اِنَّبیشک
    8. الشَّيْطٰنَشیطان
    9. يَنْزَغُفساد ڈالتا ہے
    10. بَيْنَهُمْان کے درمیان
    11. اِنَّبیشک
    12. الشَّيْطٰنَشیطان
    13. كَانَہے
    14. لِلْاِنْسَانِانسان کا
    15. عَدُوًّادشمن
    16. مُّبِيْنًاکھلا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مسلمانو ایک دوسرے کا احترام کرو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ مومن بندوں سے فرما دیں کہ وہ اچھے الفاظ، بہتر فقروں اور تہذیب سے کلام کرتے رہیں، ورنہ شیطان ان کے آپس میں سر پھٹول اور برائی ڈلوا دے گا، لڑائی جھگڑے شروع ہوجائیں گے۔ وہ انسان کا دشمن ہے گھات میں لگا رہتا ہے، اسی لئے حدیث میں مسلمان بھائی کی طرف کسی ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی حرام ہے کہ کہیں شیطان اسے لگا نہ دے اور یہ جہنمی نہ بن جائے۔ ملاحظہ ہو مسند احمد۔ حضور ﷺ نے لوگوں کے ایک مجمع میں فرمایا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے کوئی کسی کو بےعزت نہ کرے پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تقوی یہاں ہے جو دو شخص آپس میں دینی دوست ہوں پھر ان میں جدائی ہوجائے اسے ان میں سے جو بیان کرے وہ بیان کرنے والا برا ہے وہ بدتر ہے وہ نہایت شریر ہے (مسند)