تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 17. Al-Israa · Ayah 68
اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ﴿68﴾
- اَفَاَمِنْتُمْسو کیا تم نڈر ہوگئے ہو
- اَنْکہ
- يَّخْسِفَدھنسا دے
- بِكُمْتمہیں
- جَانِبَ الْبَرِّخشکی کی طرف
- اَوْیا
- يُرْسِلَوہ بھیجے
- عَلَيْكُمْتم پر
- حَاصِبًاپتھر برسانے والی ہو
- ثُمَّپھر
- لَا تَجِدُوْاتم نہ پاؤ
- لَكُمْاپنے لیے
- وَكِيْلًاکوئی کارساز
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اظہار قدرت و اختیار
رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے پھر وہاں تو صرف اسی کو پکارنا اور یہاں اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا یہ کس قدر ناانصافی ہے ؟ وہ تو تم پر پتھروں کی بارش بھی برسا کر ہلاک کرسکتا ہے جیسے لوطیوں پر ہوئی تھے۔ جس کا بیان خود قرآن میں کئی جگہ ہے۔ سورة تبارک میں فرمایا کہ کیا تمہیں اس اللہ کا ڈر نہیں جو آسمانوں میں ہے کہ کہیں وہ تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے کہ یکایک زمین جنبش کرنے لگے۔ کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ کا خوف نہیں کہ کہیں وہ تم پر پتھر نہ برسا دے پھر جان لو کہ ڈرانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس وقت تم نہ اپنا مددگار پاؤ گے، نہ دستگیر، نہ وکیل نہ کار ساز، نہ نگہبان، نہ پاسبان۔