تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 18. Al-Kahf · Ayah 57
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا﴿57﴾
- وَمَنْاور کون
- اَظْلَمُبڑا ظالم
- مِمَّنْاس سے جو
- ذُكِّرَسمجھایا گیا
- بِاٰيٰتِآیتوں سے
- رَبِّهٖاس کا رب
- فَاَعْرَضَتو اس نے منہ پھیرلیا
- عَنْهَااس سے
- وَنَسِيَاور وہ بھول گیا
- مَا قَدَّمَتْجو آگے بھیجا
- يَدٰهُاس کے دونوں ہاتھ
- اِنَّا جَعَلْنَابیشک ہم نے ڈال دئیے
- عَلٰي قُلُوْبِهِمْان کے دلوں پر
- اَكِنَّةًپردے
- اَنْکہ
- يَّفْقَهُوْهُوہ اسے سمجھ سکیں
- وَاور
- فِيْٓمیں
- اٰذَانِهِمْان کے کان
- وَقْرًاگرانی
- وَاِنْاور اگر
- تَدْعُهُمْتم انہیں بلاؤ
- اِلَىطرف
- الْهُدٰىہدایت
- فَلَنْتو وہ ہرگز
- يَّهْتَدُوْٓانہ پائیں ہدایت
- اِذًاجب بھی
- اَبَدًاکبھی بھی
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بد ترین شخص کون ہے ؟
فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں پھر قرآن وبیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہوجاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے اگر وہ گنہگار کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے یہ تو اس کا حلم ہے پردہ پوشی ہے معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آجائیں گناہوں والے توبہ کرلیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے جو اتنا سخت دن ہوگا کہ بچے بوڑھے ہوجائیں گے حمل گرجائیں گے اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہوگی کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہوگی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑگئیں اور آخرش مٹا دی گئیں ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آپہنچا اور وہ تباہ برباد ہوگئیں۔ پس اے منکرو تم بھی ڈرتے رہو تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت طاقت میں سامان اسباب میں بہت کم ہو میرے عذابوں سے ڈرو میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔