تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 18. Al-Kahf · Ayah 74

  1. فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا﴿74﴾

    1. فَانْطَلَقَاپھر وہ دونوں چلے
    2. حَتّىٰٓیہانتک کہ
    3. اِذَاجب
    4. لَقِيَاوہ ملے
    5. غُلٰمًاایک لڑکا
    6. فَقَتَلَهٗتو اس نے اس کو قتل کردیا
    7. قَالَاس نے کہا
    8. اَقَتَلْتَکیا تم نے قتل کردیا
    9. نَفْسًاایک جان
    10. زَكِيَّةًپاک
    11. بِغَيْرِبغیر
    12. نَفْسٍجان
    13. لَقَدْ جِئْتَالبتہ تم آئے (تم نے کیا)
    14. شَيْئًاایک کام
    15. نُّكْرًاناپسندیدہ
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
حکمت الہی کے مظاہر فرمان ہے کہ اس واقعہ کے بعد دونوں صاحب ایک ساتھ چلے ایک بستی میں چند بچے کھیلتے ہوئے ملے ان میں سے ایک بہت ہی تیز طرار نہایت خوبصورت چالاک اور بھلا لڑکا تھا۔ اس کو پکڑ کر حضرت خضر نے اس کا سر توڑ دیا یا تو پتھر سے یا ہاتھ سے ہی گردن مروڑ دی بچہ اسی وقت مرگیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کانپ اٹھے اور بڑے سخت لہجے میں کہا یہ کیا واہیات ہے ؟ چھوٹے بےگناہ بچے کو بغیر کسی شرعی سبب کے مار ڈالنا یہ کون سی بھلائی ہے ؟ بیشک تم نہایت منکر کام کرتے ہو۔ الحمد للہ تفسیر محمدی کا پندرھواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین