تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 2. Al-Baqara · Ayah 145

  1. وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ﴿145﴾

    1. وَلَئِنْاور اگر
    2. أَتَيْتَآپ لائیں
    3. الَّذِيْنَجنہیں
    4. أُوْتُوا الْكِتَابَدی گئی کتاب (اہل کتاب)
    5. بِكُلِّتمام
    6. اٰيَةٍنشانیاں
    7. مَّا تَبِعُوْاوہ پیروی نہ کرینگے
    8. قِبْلَتَکَآپ کا قبلہ
    9. وَمَااور نہ
    10. أَنْتَآپ
    11. بِتَابِعٍپیروی کرنے والے
    12. قِبْلَتَهُمْان کا قبلہ
    13. وَمَااور نہیں
    14. بَعْضُهُمْان سے کوئی
    15. بِتَابِعٍپیروی کرنے والا
    16. قِبْلَةَقبلہ
    17. بَعْضٍکسی
    18. وَلَئِنِاور اگر
    19. اتَّبَعْتَآپ نے پیروی کی
    20. أَهْوَآءَهُمْان کی خواہشات
    21. مِنْ بَعْدِاس کے بعد
    22. مَا جَآءَکَکہ آچکا آپ کے پاس
    23. مِنَ الْعِلْمِعلم
    24. إِنَّکَبیشک آپ
    25. إِذًااب
    26. لَّمِنَسے
    27. الظَّالِمِيْنَبےانصاف
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کفر وعناد زدہ یہودی یہودیوں کے کفر وعناد اور مخالفت و سرکشی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجودیکہ رسول ﷺ کی شان کا انہیں علم ہے لیکن پھر بھی یہ حالت ہے کہ ہر قسم کی دلیلیں پیش ہو چکنے کے بعد بھی حق کی پیروی نہیں کرتے جیسے اور جگہ ہے آیت (ان الذین حقت علیھم کلمتہ ربک لا یومنون ولو جاء تھم کل ایت حتی یروا العذاب الالیم) یعنی جن لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے چاہے ان کے پاس یہ تمام آیتیں آجائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں پھر اپنے نبی ﷺ کی استقامت بیان فرماتا ہے کہ جس طرح وہ ناحق پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہاں سے ہٹنا نہیں چاہتے تو وہ بھی سمجھ لیں کہ ہمارے نبی ﷺ ایسے نہیں کہ ان کی باتوں میں آجائیں اور ان کی راہ چل پڑیں وہ ہمارے تابع فرمان ہیں اور ہماری مرضی کے عامل ہیں وہ ان کی باطل خواہش کی تابعداری ہرگز نہیں کریں گے نہ ان سے یہ ہوسکتا ہے کہ ہمارا حکم آجانے کے بعد ان کے قبلہ کی طرف توجہ کریں پھر اپنے نبی کو خطاب کر کے در اصل علماء کو دھمکایا گیا کہ حق کے واضح ہوجانے کے بعد کسی کے پیچھے لگ جانا اور اپنی یا دوسروں کی خواہش پرستی کرنا یہ صریح ظلم ہے۔