تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 2. Al-Baqara · Ayah 156
الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ﴿156﴾
- الَّذِيْنَوہ جو
- اِذَآجب
- اَصَابَتْهُمْپہنچے انہیں
- مُّصِيْبَةٌکوئی مصیبت
- قَالُوْٓاوہ کہیں
- اِنَّا لِلّٰهِہم اللہ کے لیے
- وَاِنَّآاور ہم
- اِلَيْهِاس کی طرف
- رٰجِعُوْنَلوٹنے والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اب بیان ہو رہا ہے کہ جن صبر کرنے والوں کی اللہ کے ہاں عزت ہے وہ کون لوگ ہیں ؟ پس فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو تنگی اور مصیبت کے وقت آیت انا للہ) پڑھ لیا کرتے ہیں اور اس بات سے اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور جو ہمیں پہنچا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ان میں جس طرح وہ چاہے تصرف کرتا رہتا ہے اور پھر اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے جہاں انہیں بالاخر جانا ہے، ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ کی نوازشیں اور الطاف ان پر نازل ہوتے ہیں عذاب سے نجات ملتی ہے اور ہدایت بھی نصیب ہوتی ہے۔