تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 2. Al-Baqara · Ayah 215

  1. یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ﴿215﴾

    1. يَسْئَلُوْنَكَوہ آپ سے پوچھتے ہیں
    2. مَاذَاکیا کچھ
    3. يُنْفِقُوْنَخرچ کریں
    4. قُلْآپ کہ دیں
    5. مَآجو
    6. اَنْفَقْتُمْتم خرچ کرو
    7. مِّنْسے
    8. خَيْرٍمال
    9. فَلِلْوَالِدَيْنِسو ماں باپ کے لیے
    10. وَالْاَقْرَبِيْنَاور قرابتدار (جمع)
    11. وَالْيَتٰمٰىاور یتیم (جمع)
    12. وَالْمَسٰكِيْنِاور محتاج (جمع)
    13. وَابْنِ السَّبِيْلِاور مسافر
    14. وَمَااور جو
    15. تَفْعَلُوْاتم کرو گے
    16. مِنْ خَيْرٍکوئی نیکی
    17. فَاِنَّتو بیشک
    18. اللّٰهَاللہ
    19. بِهٖاسے
    20. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
نفلی خیرات مقاتل فرماتے ہیں یہ آیت نفلی خیرات کے بارے میں ہے، سدی کہتے ہیں اسے آیت زکوٰۃ نے منسوخ کردیا۔ لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے، مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے نبی لوگ تم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کس طرح خرچ کریں تم انہیں کہہ دو کہ ان لوگوں سے سلوک کریں جن کا بیان ہوا۔ حدیث میں ہے کہ اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر اور قریبی اور قریبی لوگوں سے یہ حدیث بیان فرما کر حضرت میمون بن مہران نے اس آیت کی تلاوت کیا اور فرمایا یہ ہیں جن کے ساتھ مالی سلوک کیا جائے اور ان پر مال خرچ کیا جائے نہ کہ طبلوں باجوں تصویروں اور دیواروں پر کپڑا چسپاں کرنے میں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے تم جو بھی نیک کام کرو اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ اس پر بہترین بدلہ عطا فرمائے گا وہ ذرے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔