تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 2. Al-Baqara · Ayah 254

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿254﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓاجو ایمان لائے (ایمان والے)
    3. اَنْفِقُوْاتم خرچ کرو
    4. مِمَّاسے۔ جو
    5. رَزَقْنٰكُمْہم نے دیا تمہیں
    6. مِّنْ قَبْلِسے۔ پہلے
    7. اَنْکہ
    8. يَّاْتِيَآجائے
    9. يَوْمٌوہ دن
    10. لَّا بَيْعٌنہ خریدو فروخت
    11. فِيْهِاس میں
    12. وَلَا خُلَّةٌاور نہ دوستی
    13. وَّلَا شَفَاعَةٌاور نہ سفارش
    14. وَالْكٰفِرُوْنَاور کافر (جمع)
    15. ھُمُوہی
    16. الظّٰلِمُوْنَظالم (جمع)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
آج کے صدقات قیامت کے دن شریک غم ہوں گے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ بھلائی کی راہ میں اپنا مال خرچ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کا ثواب جمع رہے، اور پھر فرماتا ہے کہ اپنی زندگی میں ہی خیرات و صدقات کرلو، قیامت کے دن نہ تو خریدو فروخت ہوگی نہ زمین بھر کر سونا دینے سے جان چھوٹ سکتی ہے، نہ کسی کا نسب اور دوستی و محبت کچھ کام آسکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ) 23۔ المؤمنون :101) یعنی جب صور پھونکا جائے گا اس دن نہ تو نسب رہے گا نہ کوئی کسی کا پرسان حال ہوگا، اور اس دن سفارشیوں کی سفارش بھی کچھ نفع نہ دیگی۔ پھر فرمایا کافر ہی ظالم ہیں یعنی پورے اور پکے ظالم ہیں وہ جو کفر کی حالت ہی میں اللہ سے ملیں، عطا بن دینار کہتے ہیں شکر ہے اللہ نے کافروں کو ظالم فرمایا لیکن ظالموں کو کافر نہیں فرمایا۔