تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 23. Al-Muminoon · Ayah 117
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ﴿117﴾
- وَاور
- مَنْ يَّدْعُجو پکارے
- مَعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
- اِلٰهًا اٰخَرَکوئی اور معبود
- لَا بُرْهَانَنہیں کوئی سند
- لَهٗاس کے پاس
- بِهٖاس کے لیے
- فَاِنَّمَاسو، تحقیق
- حِسَابُهٗاس کا حساب
- عِنْدَ رَبِّهٖاس کے رب کے پاس
- اِنَّهٗبیشک وہ
- لَا يُفْلِحُفلاح (کامیابی) نہیں پائینگے
- الْكٰفِرُوْنَکافر (جمع)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ بھی سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
دلائل کے ساتھ مشرک کا موحد ہونا
مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور جواب شرط فانما والے جملے کے ضمن میں ہے یعنی اس کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ کافر اس کے پاس کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ نجات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک شخص سے رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تو کس کس کو پوجتا ہے ؟ اس نے کہا صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کو آپ ﷺ نے فرمایا جب کام آنے والا وہی ہے تو پھر اس کے ساتھ ان دوسروں کی عبادت کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اکیلا تجھے کافی نہ ہوگا ؟ جب اس نے کہا یہ تو نہیں کہہ سکتا، البتہ ارادہ یہ ہے کہ اوروں کی عبادت کرکے اس کا پورا شکر بجا لاسکوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، سبحان اللہ ! علم کے ساتھ یہ بےعلمی ؟ جانتے ہو اور پھر انجان بنے جاتے ہو ؟ اب کوئی جواب بن نہ پڑا۔ چناچہ وہ مسلمان ہوجانے کے بعد کہا کرتے تھے مجھے حضور ﷺ نے قائل کرلیا۔ یہ حدیث مرسل ہے ترمذی میں سنداً بھی مروی ہے۔ پھر ایک دعا تعلیم فرمائی گئی۔ غفر کے معنی جب وہ مطلق ہو تو گناہوں کو مٹا دینے اور انہیں لوگوں سے چھپا دینے کے آتے ہیں۔ اور رحمت کے معنی صحیح راہ پر قائم رکھنے اور اچھے اقوال و افعال کی توفیق دینے کے ہوتے ہیں۔ الحمدللہ سورة مومنون کی تفسیر ختم ہوئی۔