تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 27. An-Naml · Ayah 63
اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ﴿63﴾
- اَمَّنْبھلا کون
- يَّهْدِيْكُمْتمہیں راہ دکھاتا ہے
- فِيْ ظُلُمٰتِاندھیروں میں
- الْبَرِّخشکی
- وَالْبَحْرِاور سمندر
- وَاور
- مَنْکون
- يُّرْسِلُچلاتا ہے
- الرِّيٰحَہوائیں
- بُشْرًۢاخوشخبری دینے والی
- بَيْنَ يَدَيْپہلے
- رَحْمَتِهٖاس کی رحمت
- ءَاِلٰهٌکیا کوئی معبود
- مَّعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
- تَعٰلَى اللّٰهُبرتر ہے اللہ
- عَمَّااس سے جو
- يُشْرِكُوْنَوہ شریک ٹھہراتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بناتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بناکر بھیجتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں)۔ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ستاروں کے فوائد
آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں کہ خشکی اور تری میں جو راہ بھول جائے وہ انہیں دیکھ کر راہ راست اختیار کرلے۔ جیسے فرمایا ہے کہ ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں سمندروں میں خشکی میں انہیں دیکھ کر اپنا راستہ ٹھیک کرلیتے ہیں بادل پانی بھرے برسیں اس سے پہلے ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہوائیں چلاتا ہے۔ جس سے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب رب کی رحمت برسے گی۔ اللہ کے سوا ان کاموں کا کرنے والا کوئی نہیں نہ کوئی ان پر قادر ہے۔ تمام شریکوں سے وہ الگ ہے پاک ہے سب سے بلند ہے۔