تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 28. Al-Qasas · Ayah 20

  1. وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ﴿20﴾

    1. وَجَآءَاور آیا
    2. رَجُلٌایک آدمی
    3. مِّنْسے
    4. اَقْصَا الْمَدِيْنَةِشہر کا پرلا سرا
    5. يَسْعٰىدوڑتا ہوا
    6. قَالَاس نے کہا
    7. يٰمُوْسٰٓىاے موسیٰ
    8. اِنَّبیشک
    9. الْمَلَاَسردار
    10. يَاْتَمِرُوْنَوہ مشورہ کر رہے ہیں
    11. بِكَتیرے بارے میں
    12. لِيَقْتُلُوْكَتاکہ قتل کر ڈالیں تجھے
    13. فَاخْرُجْپس تو نکل جا
    14. اِنِّىْبیشک میں
    15. لَكَتیرے لیے
    16. مِنَسے
    17. النّٰصِحِيْنَخیر خواہ (جمع)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا (اور) بولا کہ موسٰی (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
گمنام ہمدر اس آنے والے کو رجل کہا گیا۔ عربی میں رجل کہتے ہیں قدموں کو۔ اس نے جب دیکھا کہ سپاہ حضرت موسیٰ کے تعاقب میں جارہی ہے تو یہ اپنے پاؤں پر تیزی سے دوڑا اور ایک قریب کے راستے سے نکل کر جھٹ سے آپ کو اطلاع دے دی کہ یہاں کے امیر امراء آپ کے قتل کے ارادے کرچکے ہیں آپ شہر چھوڑ دیجئے۔ میں آپ کا بہی خواہ ہوں میری مان لیجئے۔