تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 31. Luqman · Ayah 20

  1. اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ﴿20﴾

    1. اَلَمْ تَرَوْاکیا تم نے نہیں دیکھا
    2. اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
    3. سَخَّرَمسخر کیا
    4. لَكُمْتمہارے لیے
    5. مَّاجو کچھ
    6. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    7. وَمَااور جو کچھ
    8. فِي الْاَرْضِزمین میں
    9. وَاَسْبَغَاور بھرپور دیں
    10. عَلَيْكُمْتم پر (تمہیں)
    11. نِعَمَهٗاپنی نعمتیں
    12. ظَاهِرَةًظاہر
    13. وَّبَاطِنَةً ۭاور پوشیدہ
    14. وَمِنَاور بعض
    15. النَّاسِلوگ
    16. مَنْجو
    17. يُّجَادِلُجھگڑتا ہے
    18. فِي اللّٰهِاللہ (کے بارہ) میں
    19. بِغَيْرِبغیر
    20. عِلْمٍعلم
    21. وَّلَا هُدًىاور بغیر ہدایت
    22. وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍاور بغیر کتاب روشن
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کر دیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
انعام و اکرام کی بارش اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لئے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لئے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں۔ پھر ان ظاہری بیشمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بیشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا شک وشبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔ اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بےحیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بےراہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔