تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 31. Luqman · Ayah 32

  1. وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ﴿32﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. غَشِيَهُمْان پر چھا جاتی ہے
    3. مَّوْجٌموج
    4. كَالظُّلَلِسائبانوں کی طرح
    5. دَعَوُا اللّٰهَوہ اللہ کو پکارتے ہیں
    6. مُخْلِصِيْنَخالص کر کے
    7. لَهُ الدِّيْنَ ڬاس کے لیے دین (عبادت)
    8. فَلَمَّاپھر جب
    9. نَجّٰىهُمْاس نے انہیں بچا لیا
    10. اِلَى الْبَرِّخشکی کی طرف
    11. فَمِنْهُمْتو ان میں کوئی
    12. مُّقْتَصِدٌ ۭمیانہ رو
    13. وَمَا يَجْحَدُاور انکار نہیں کرتا
    14. بِاٰيٰتِنَآہماری آیتوں کا
    15. اِلَّاسوائے
    16. كُلُّہر
    17. خَتَّارٍعہد شکن
    18. كَفُوْرٍناشکرا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جب اُن پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں