تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 31. Luqman · Ayah 8

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ﴿8﴾

    1. اِنَّ الَّذِيْنَبیشک جو لوگ
    2. اٰمَنُوْاایمان لائے
    3. وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
    4. الصّٰلِحٰتِاچھے
    5. لَهُمْان کے لیے
    6. جَنّٰتُ النَّعِيْمِنعمتوں کے باغات
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اُن کے لئے نعمت کے باغ ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اللہ تعالیٰ کے وعدے ٹلتے نہیں نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ پر ایمان لائے رسول کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں لذیذ غذائیں بہترین پوشاکیں عمدہ عمدہ سواریاں پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور انکی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں گے نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں۔ یہ حتما اور یقینا ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرماچکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے منان ہے محسن ہے منعم ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہر چیز پر قادر ہے عزیز ہے سب کچھ اس کے قبضے میں ہے حکیم ہے۔ کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لئے کافی اور شافی بنایا ہاں بےایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے۔ اور آیت میں ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا 82؀) 17۔ الإسراء :82) یعنی جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں۔