تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 40. Al-Ghaafir · Ayah 21
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ﴿21﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَسِيْرُوْاوہ چلے پھرے نہیں
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- فَيَنْظُرُوْاتو وہ دیکھتے
- كَيْفَ كَانَکیسا ہوا
- عَاقِبَةُانجام
- الَّذِيْنَان لوگوں کا جو
- كَانُوْاتھے
- مِنْ قَبْلِهِمْ ۭان سے پہلے
- كَانُوْا هُمْوہ تھے
- اَشَدَّ مِنْهُمْزیادہ سخت ان سے
- قُوَّةً وَّاٰثَارًاقوت اور آثار
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُتو انہیں آپکڑا اللہ نے
- بِذُنُوْبِهِمْ ۭان کے گناہوں کے سبب
- وَمَا كَانَاور نہیں ہے
- لَهُمْان کیلئے
- مِّنَ اللّٰهِاللہ سے
- مِنْ وَّاقٍکوئی بچانے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے انہوں نے کفر کیا جس پر اللہ نے انہیں ہلا کردیا اور کفار کے لئے انہیں باعث عبرت بنادیا۔ اللہ تعالیٰ پوری قوت والا، سخت پکڑ والا، شدید عذاب والا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام عذابوں سے نجات دے۔