تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 5. Al-Maaida · Ayah 70

  1. لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ﴿70﴾

    1. لَقَدْبیشک
    2. اَخَذْنَاہم نے لیا
    3. مِيْثَاقَپختہ عہد
    4. بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
    5. وَاَرْسَلْنَآاور ہم نے بھیجے
    6. اِلَيْهِمْان کی طرف
    7. رُسُلًارسول (جمع)
    8. كُلَّمَاجب بھی
    9. جَآءَهُمْآیا ان کے پاس
    10. رَسُوْلٌکوئی رسول
    11. بِمَااس کے ساتھ جو
    12. لَا تَهْوٰٓىنہ چاہتے تھے
    13. اَنْفُسُهُمْان کے دل
    14. فَرِيْقًاایک فریق
    15. كَذَّبُوْاجھٹلایا
    16. وَفَرِيْقًااور ایک فریق
    17. يَّقْتُلُوْنَقتل کر ڈالتے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
سیاہ عمل یہود اور نصاریٰ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لئے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کردی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کردیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بےفکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے گئے اور اس سے اندھے اور بہرے بنا دیئے گئے نہ حق کو سنیں اور نہ ہدایت کو دیکھ سکیں لیکن پھر بھی اللہ نے ان پر مہربانی کی افسوس اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر حق سے نابینا اور حق کے سننے سے محروم ہی ہوگئے اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے۔