تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 6. Al-An'aam · Ayah 101
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿101﴾
- بَدِيْعُنئی طرح بنانے والا
- السَّمٰوٰتِآسمان (جمع)
- وَالْاَرْضِاور زمین
- اَنّٰىکیونکر
- يَكُوْنُہوسکتا ہے
- لَهٗاس کا
- وَلَدٌبیٹا
- وَّلَمْ تَكُنْاور جبکہ نہیں
- لَّهٗاس کی
- صَاحِبَةٌبیوی
- وَخَلَقَاور اس نے پیدا کی
- كُلَّ شَيْءٍہر چیز
- وَهُوَاور وہ
- بِكُلِّ شَيْءٍہر چیز
- عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے)۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اللہ بےمثال ہے وحدہ لاشریک ہے
زمین و آسمان کا موجد بغیر کسی مثال اور نمونے کے انہیں عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہی ہے۔ بدعت کو بھی بدعت اسی لئے کہتے ہیں کہ پہلے اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی، بھلا اس کا صاحب اولاد ہونا کیسے ممکن ہے جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں، اولاد کیلئے تو جہاں باپ کا ہونا ضروری ہے وہیں ماں کا وجود بھی لازمی ہے، اللہ کے مشابہ جبکہ کوئی نہیں ہے اور جوڑا تو ساتھ کا اور جنس کا ہوتا ہے پھر اس کی بیوی کیسے ؟ اور بیوی نہیں تو اولاد کہاں ؟ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور یہ بھی اس کے منافی ہے کہ اس کی اولاد اور زوجہ ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا) 19۔ مریم :88) لوگ کہتے ہیں اللہ کی اولاد ہے۔ ان کی بڑی فضول اور غلط افواہ ہے عجب نہیں کہ اس بات کو سن کر آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ رحمن اور اولاد ؟ وہ تو ایسا ہے کہ آسمان و زمین کی کل مخلوق اس کی بندگی میں مصروف ہے۔ سب پر اس کا علبہ سب پر اس کا علم سب اس کے سامنے فردا فرداً آنے والے۔ وہ خالق کل ہے اور عالم کل ہے۔ اس کی جوڑ کا کوئی نہیں وہ اولاد سے اور بیوی سے پاک ہے اور مشرکوں کے اس بیان سے بھی پاک ہے۔