تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 6. Al-An'aam · Ayah 126

  1. وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ﴿126﴾

    1. وَھٰذَااور یہ
    2. صِرَاطُراستہ
    3. رَبِّكَتمہارا رب
    4. مُسْتَقِيْمًاسیدھا
    5. قَدْ فَصَّلْنَاہم نے کھول کر بیان کردی ہیں
    6. الْاٰيٰتِآیات
    7. لِقَوْمٍان لوگوں کے لیے
    8. يَّذَّكَّرُوْنَجو نصیحت پکڑتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ سیدھی اور صاف راہ جو بےروک اللہ کی طرف پہنچا دے یہی ہے (مستقیما) کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ پس شرع محمدی کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے چناچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر مویدو مولی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہوگا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے۔