تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 6. Al-An'aam · Ayah 140
قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ع﴿140﴾
- قَدْ خَسِرَالبتہ گھاٹے میں پڑے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جنہوں نے
- قَتَلُوْٓاانہوں نے قتل کیا
- اَوْلَادَهُمْاپنی اولاد
- سَفَهًۢابیوقوفی سے
- بِغَيْرِ عِلْمٍبیخبر ی (نادانی سے)
- وَّحَرَّمُوْااور حرام ٹھہرا لیا
- مَاجو
- رَزَقَهُمُانہیں دیا
- اللّٰهُاللہ
- افْتِرَآءًجھوٹ باندھتے ہوئے
- عَلَي اللّٰهِاللہ پر
- قَدْ ضَلُّوْایقیناً وہ گمراہ ہوئے
- وَمَا كَانُوْااور وہ نہ تھے
- مُهْتَدِيْنَہدایت پانے والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اولاد کے قاتل
اولاد کے قاتل اللہ کے حلال کو حرام کرنے والے دونوں جہان کی بربادی اپنے اوپر لینے والے ہیں۔ دنیا کا گھاٹا تو ظاہر ہے ان کے یہ دونوں کام خود انہیں نقصان پہنچانے والے ہیں بےاولاد یہ ہوجائیں گے مال کا ایک حصہ ان کا تباہ ہوجائے گا۔ رہا آخرت کا نقصان سو چونکہ یہ مفتری ہیں، کذاب ہیں، وہاں کی بدترین جگہ انہیں ملے گی، عذابوں کے سزاوار ہوں گے جیسے فرمان ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے نجات سے محروم کامیابی سے دور ہیں یہ دنیا میں گو کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو ہمارے بس میں آئیں گے پھر تو ہم انہیں سخت تر عذاب چکھائیں گے کیونکہ یہ کافر تھے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اگر تو اسلام سے پہلے کے عربوں کی بد خصلتی معلوم کرنا چاہے تو سورة انعام کی ایک سو تیس آیات کے بعد آیت (قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ) 6۔ الانعام :31) والی روایت پڑھو (بخاری کتاب مناقب قریش)