تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 7. Al-A'raaf · Ayah 130

  1. وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ﴿130﴾

    1. وَلَقَدْاور البتہ
    2. اَخَذْنَآہم نے پکڑا
    3. اٰلَ فِرْعَوْنَفرعون والے
    4. بِالسِّنِيْنَقحطوں میں
    5. وَنَقْصٍاور نقصان
    6. مِّنَسے (میں)
    7. الثَّمَرٰتِپھل (جمع)
    8. لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
    9. يَذَّكَّرُوْنَنصیحت پکڑیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اعمال کا خمیازہ اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں، کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑگئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ٹھاک ہوجائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہوگئی شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے ان کی بد شگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔