تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 7. Al-A'raaf · Ayah 203
وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿203﴾
- وَاِذَااور جب
- لَمْ تَاْتِهِمْتم نہ لاؤ ان کے پاس
- بِاٰيَةٍکوئی آیت
- قَالُوْاکہتے ہیں
- لَوْلَاکیوں نہیں
- اجْتَبَيْتَهَااسے گھڑ لیا
- قُلْکہ دیں
- اِنَّمَآصرف
- اَتَّبِعُمیں پیروی کرتا ہوں
- مَا يُوْحٰٓىجو وحی کی جاتی ہے
- اِلَيَّمیری طرف
- مِنْسے
- رَّبِّيْمیرا رب
- هٰذَایہ
- بَصَآئِرُسوجھ کی باتیں
- مِنْسے
- رَّبِّكُمْتمہارا رب
- وَهُدًىاور ہدایت
- وَّرَحْمَةٌاور رحمت
- لِّقَوْمٍلوگوں کے لیے
- يُّؤْمِنُوْنَایمان رکھتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے۔
یہ لوگ کوئی معجزہ مانگتے اور آپ اسے پیش نہ کرتے تو کہتے کہ نبی ہوتا تو ایسا کرلیتا، بنا لیتا، اللہ سے مانگ لیتا، اپنے آپ گھڑ لیتا، آسمان سے گھسیٹ لاتا۔ الغرض معجزہ طلب کرتے اور وہ طلب بھی سرکشی اور عناد کے ساتھ ہوتی۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت (اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ) 26۔ الشعراء :4) اگر ہم چاہتے تو کوئی نشان ان پر آسمان سے اتارتے جس سے ان کی گردنین جھک جاتیں۔ وہ لوگ حضور سے کہتے رہتے تھے کہ جو ہم مانگتے ہیں وہ معجزہ اپنے رب سے طلب کر کے ہمیں ضرور دکھا دیجئے۔ تو حکم دیا کہ ان سے فرما دیجئے کہ میں تو اللہ کی باتیں ماننے والا اور ان پر عمل کرنے والا وحی الٰہی کا تابع ہوں۔ میں اس کی جناب میں کوئی گستاخی نہیں کرسکتا، آگے نہیں بڑھ سکتا، جو حکم دے صرف اسے بجا لاتا ہوں۔ اگر کوئی معجزہ وہ عطا فرمائے دکھا دوں۔ جو وہ ظاہر نہ فرمائے میں اسے لا نہیں سکتا میرے بس میں کچھ نہیں میں اس سے معجزہ طلب نہیں کیا کرتا مجھ میں اتنی جرات نہیں ہاں اگر اس کی اجازت پالیتا ہوں تو اس سے دعا کرتا ہوں وہ حکمتوں والا اور علم والا ہے۔ میرے پاس تو میرے رب کا سب سے بڑا معجزہ یہ قرآن کریم ہے جو سب سے زیادہ واضح دلیل سب سے زیادہ سچی حجت اور سب سے زیادہ روشن برہان ہے جو حکمت ہدایت اور رحمت سے پر ہے اگر دل میں ایمان ہے تو اس اچھے سچے عمدہ اور اعلیٰ معجزے کے بعد دوسرے معجزے کی طلب باقی ہی نہیں رہتی۔