تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 7. Al-A'raaf · Ayah 85
وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ﴿85﴾
- وَاور
- اِلٰيطرف
- مَدْيَنَمدین
- اَخَاهُمْان کے بھائی
- شُعَيْبًاشعیب
- قَالَاس نے کہا
- يٰقَوْمِاے میری قوم
- اعْبُدُواعبادت کرو
- اللّٰهَاللہ
- مَا لَكُمْنہیں تمہارا
- مِّنْسے
- اِلٰهٍمعبود
- غَيْرُهٗاس کے سوا
- قَدْ جَآءَتْكُمْتحقیق پہنچ چکی تمہارے پاس
- بَيِّنَةٌایک دلیل
- مِّنْسے
- رَّبِّكُمْتمہارا رب
- فَاَوْفُواپس پورا کرو
- الْكَيْلَناپ
- وَالْمِيْزَانَاور تول
- وَلَا تَبْخَسُوااور نہ گھٹاؤ
- النَّاسَلوگ
- اَشْيَآءَهُمْان کی اشیا
- وَلَا تُفْسِدُوْااور فساد نہ مچاؤ
- فِي الْاَرْضِزمین (ملک) میں
- بَعْدَبعد
- اِصْلَاحِهَااس کی اصلاح
- ذٰلِكُمْیہ
- خَيْرٌبہتر
- لَّكُمْتمہارے لیے
- اِنْاگر
- كُنْتُمْتم ہو
- مُّؤْمِنِيْنَایمان والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
خطیب الانبیاء شعیب علیہ اسلام
مشہور مؤرخ حضرت امام محمد بن اسحاق ؒ فرماتے ہیں یہ لوگ مدین بن ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ حضرت شعیب میکیل بن نیشجر کے لڑکے تھے ان کا نام سریانی زبان میں یژون تھا۔ یہ یاد رہے کہ قبیلے کا نام بھی مدین تھا اور اس بستی کا نام بھی یہی تھا یہ شہر معان سے ہوتے ہوئے حجاز جانے والے کے راستے میں آتا ہے۔ آیت قرآن ولما و رد ماء مدین میں شہر مدین کے کنویں کا ذکر موجود ہے اس سے مراد ایکہ والے ہیں جیسا کہ انشاء اللہ بیان کریں گے۔ آپ نے بھی تمام رسولوں کی طرح انہیں توحید کی اور شرک سے بچنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ کی طرف سے میری نبوت کی دلیلیں تمہارے سامنے آچکی ہیں۔ خالق کا حق بتا کر پھر مخلوق کے حق کی ادائیگی کی طرف رہبری کی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی کی عادت چھوڑو لوگوں کے حقوق نہ مارو۔ کہو کچھ اور کرو کچھ یہ خیانت ہے فرمان ہے آیت (ویل للمطففین) ان ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے (ویل) ہے۔ اللہ اس بدخصلت سے ہر ایک کو بچائے۔ پھر حضرت شعیب ؑ کا اور وعظ بیان ہوتا ہے۔ آپ کو بہ سبب فضاحت عبارت اور عمدگی وعظ کے خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔