Jawahir-ul-Quran - Yaseen : 23
ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ
ءَاَتَّخِذُ : کیا میں بنا لوں مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اٰلِهَةً : ایسے معبود اِنْ : اگر يُّرِدْنِ : وہ چاہے الرَّحْمٰنُ : رحمن۔ اللہ بِضُرٍّ : کوئی نقصان لَّا تُغْنِ عَنِّىْ : نہ کام آئے میرے شَفَاعَتُهُمْ : ان کی سفارش شَيْئًا : کچھ بھی وَّلَا يُنْقِذُوْنِ : اور نہ چھڑا سکیں وہ مجھے
بھلا میں پکڑوں اس کے سوا16 اوروں کو پوجنا کہ اگر مجھ پر چاہے رحمان تکلیف تو کچھ کام نہ آئے مجھ کو ان کی سفارش اور نہ وہ مجھ کو چھڑائیں
16:۔ ء اتخذ الخ، اس آیت میں دعوی سورت مذکور ہے یعنی نفی شفاعت قہری جیسا کہ اس بستی والوں کو ہم نے پکڑا مگر ان کے مزعومہ شفعاء نے ان کو نہ بچایا، حبیب نجار نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کیا یہ بھی کوئی عقلمندی ہے کہ میں اپنے خالق و منعم کے علاوہ ایسی عاجز اور بےبس مخلوق کو معبود اور کارساز بنا لوں کہ اگر خدائے رحمن مجھے کسی مصیبت میں گرفتار کرنا چاہے تو اس کی بارگاہ میں نہ ان کی سفارش مجھے کام آسکے اور نہ وہ مجھے اس کی گرفت سے چھڑا ہی سکیں اب تم خود ہی بتاؤ کیا ایسے عاجز معبود، خدا کے یہاں شفیع غالب اور کارساز ہوسکتے ہیں ؟
Top