Kashf-ur-Rahman - Yaseen : 17
وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
وَمَا : اور نہیں عَلَيْنَآ : ہم پر اِلَّا : مگر الْبَلٰغُ : پہنچا دینا الْمُبِيْنُ : صاف صاف
اور ہمارے ذمہ تو صرف خدا کے پیغام کا صاف صاف پہنچا دینا ہے۔
(17) اور ہمارے ذمے تو صرف اللہ تعالیٰ کے پیغام کا صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ یعنی ان تینوں پیغامبروں نے توحید کے دلائل ان کو سنائے اور بتائے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ بہت سے بیماروں کو ان کی دعا سے شفاء بھی ہوئی تمام دلائل وبراہین دیکھنے کے بعد ان گائوں والوں نے ان کا رد کرنا شروع کردیا اور عام لوگوں کی طرح وہی بشریت کا اعتراض اٹھایا اور جملہ کتب سماویہ کا انکار کیا جیسا کہ ماانزل الرحمن من شئی سے ظاہر ہے جب پیغمبروں کی تکذیب میں گائوں والوں نے تاکید سے کام لیا تو انہوں نے مجبوراً اپنے کلام کو موکدبالقسم کرتے ہوئے فرمایا ربنا یعلم پیغمبروں کی اس سیدھی بات پر گائوں والوں نے جو اعتراض کیا وہ آگے مذکور ہے۔
Top