Kashf-ur-Rahman - Yaseen : 18
قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ
قَالُوْٓا : وہ کہنے لگے اِنَّا تَطَيَّرْنَا : ہم نے منحوس پایا بِكُمْ ۚ : تمہیں لَئِنْ : اگر لَّمْ تَنْتَهُوْا : تم باز نہ آئے لَنَرْجُمَنَّكُمْ : ضرور ہم سنگسار کردیں گے تمہیں وَلَيَمَسَّنَّكُمْ : اور ضرور پہنچے گا تمہیں مِّنَّا : ہم سے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک
بستی والوں نے کہا کہ ہم نے تو تم کو منحوس پایا۔ اگر تم اپنے اس دعوے سے باز نہ آئو گے تو ہم تم کو سنگسار کر ڈالیں گے اور ہماری طرف سے تم کو عبرتناک سزا ملے گی۔
(18) گائوں کے لوگوں نے کہا ہم نے تو تم کو منحوس پایا اور ہم نے تم سے شگون بد لیا اور ہم نے تم کو نامبارک دیکھا اگر تم اپنے دعویٰ سے باز نہ آئو گے اور اپنی اس دعوت توحید کو بند نہ کرو گے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے عبرتناک سزا ملے گی اور تم کو ہمارے ہاتھوں سخت تکلیف پہنچے گی۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں قحط کے آثار نمایاں تھے اس بنا پر گائوں والوں نے ان کو منحوس کہا یا اس بنا پر کہا کہ تمہاری وجہ سے ہم میں اختلاف پیدا ہوگیا یہ تمہاری نحوست ہے۔
Top