Madarik-ut-Tanzil - Yaseen : 10
وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
وَسَوَآءٌ : اور برابر عَلَيْهِمْ : ان پر۔ ان کے لیے ءَاَنْذَرْتَهُمْ : خواہ تم انہیں ڈراؤ اَمْ : یا لَمْ تُنْذِرْهُمْ : تم انہیں نہ ڈراؤ لَا يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان نہ لائیں گے
اور تم ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لانے کے
10: وَسَوَآ ئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْ ھُمْ (اور ان کے حق میں آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں برا بر ہے) ۔ لَا یُؤْمِنُوْنَ (یہ ایمان نہ لائیں گے) یعنی ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے۔ مطلب یہ ہے۔ جو گمراہی کے اس درجہ کو پہنچا ہو۔ اس کے لئے ڈرانا نفع بخش نہیں۔ ایک عبرتناک حکایت : میں ہے کہ عمربن عبدا لعزیز رحمۃ اللہ نے اللہ قدری فرقہ کے غیلان نامی آدمی کو یہ آیت پڑھ کر سنائی تو وہ کہنے لگا۔ یہ آیت تو گویا اب تک میری نگاہ سے گزری نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آج سے میں قدریہ فرقہ کے عقائد سے تائب ہوتا ہوں۔ عمربن عبد العزیز نے دعا کی اے اللہ اگر اس نے سچ کہا ہے تو اس کی تو بہ قبول فرما لے۔ اگر اس نے جھوٹ بولا تو اس پر ایسے شخص کو مسلط کر دے جو رحم نہ کرنے والا ہو چناچہ ہشام بن عبدالملک نے اپنے زمانہ میں اس کو پکڑ کر (اس کی اس باطل پرستی پر) اس کے ہاتھ پائوں کٹوا کر باب دمشق پر سولی دے دی۔
Top