مدارک التنزیل

Madarik-ut-Tanzil · 4. An-Nisaa · Ayah 38

  1. وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا﴿38﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
    2. يُنْفِقُوْنَخرچ کرتے ہیں
    3. اَمْوَالَھُمْاپنے مال
    4. رِئَآءَدکھاوے کو
    5. النَّاسِلوگ
    6. وَاور
    7. لَا يُؤْمِنُوْنَنہیں ایمان لاتے
    8. بِاللّٰهِاللہ پر
    9. وَلَااور نہ
    10. بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِآخرت کے دن پر
    11. وَمَنْاور جو۔ جس
    12. يَّكُنِہو
    13. الشَّيْطٰنُشیطان
    14. لَهٗاس کا
    15. قَرِيْنًاساتھی
    16. فَسَآءَتو برا
    17. قَرِيْنًاساتھی
Translation · Madarik-ut-Tanzil
اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لیے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کا ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے
Tafseer · Madarik-ut-Tanzil
آیت 38: وَالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ الخ (اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھلاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں) نحو : یہ یبخلون پر عطف ہے یا کافرین پر۔ رِئَائَ النَّاسِ اس کا مفعول لہٗہے۔ رِئاء کا مطلب فخر کے لئے تاکہ ان کو بڑا سخی کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے نہیں۔ اس سے مراد منافقین یا مشرکین مکہ ہیں۔ وَلَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَہٗ قَرِیْنًا فَسَآئَ قَرِیْنًا (وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جس کا شیطان دوست ہو پس وہ بہت برا دوست ہے) اس لئے کہ وہ ان کو بخل اور ریا کاری اور دیگر بداعمالیوں پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ یہ وعید ہے۔ پھر مطلب یہ ہے کہ شیطان کو آگ میں ان کا قرین بنایا جائے گا۔
Madarik-ut-Tanzil - 4 : 38