تفسیرِ مظہری

Tafseer-e-Mazhari · 4. An-Nisaa · Ayah 110

  1. وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿110﴾

    1. وَمَنْاور جو
    2. يَّعْمَلْکام کرے
    3. سُوْٓءًابرا کام
    4. اَوْ يَظْلِمْیا ظلم کرے
    5. نَفْسَهٗاپنی جان
    6. ثُمَّ يَسْتَغْفِرِپھر بخشش چاہے
    7. اللّٰهَاللہ
    8. يَجِدِوہ پائے گا
    9. اللّٰهَاللہ
    10. غَفُوْرًابخشنے والا
    11. رَّحِيْمًامہربان
Translation · Tafseer-e-Mazhari
اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا
Tafseer · Tafseer-e-Mazhari
ومن یعمل سوءا جو شخص کوئی بدی کرے یعنی ایسا برا کام کرے جس سے دوسرے کو تکلیف ہو۔ (1) [ ابن راہویہ نے مسند میں لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب آیت مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا یُّجَزْبِہٖ وَلاَ یَجِدْلَہٗ مِنْ دُْون اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا نازل ہوئی تو (غم کے مارے) ہمارے کھانے پینے کا فائدہ جاتا رہا ‘ آخر آیت وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہِ غَفُوْرًا رَحِیْمًانازل ہوئی۔ متعدد طریقوں سے حضرت علی ؓ کی روایت سے حضرت ابوبکر ؓ کا بیان آیا ہے کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے جس شخص نے کوئی گناہ کرلیا ہو پھر اٹھ کر اچھی طرح وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے اور گناہ کی بخشش کا خواستگار ہو تو اللہ ضرور ہی معاف فرما دیتا ہے کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہِ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًارواہ ابن ابی حاتم و ابن السنی وابن مردویہ۔] او یظلم نفسہ یا اپنے اوپر ظلم کرے۔ یعنی ایسی برائی جس سے دوسرے کو ضرر نہ پہنچتا ہو صرف اپنے کو نقصان پہنچتا ہو۔ بعض علماء نے کہا سوء سے مراد ہے وہ گناہ جو شرک سے کم درجہ کا ہو اور ظلم سے مراد ہے شرک یا اوّل سے مراد ہے صغیرہ گناہ اور ظلم سے مراد ہے کبیرہ۔ ثم یستغفر اللہ پھر اللہ سے معافی کا طلب گار ہو یعنی اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے اور لوگوں کے حقوق لوٹا دے۔ یجد اللہ غفورا وہ اللہ کو گناہ بخشنے والا۔ رحیما . اور مہربان پائے گا۔ اس آیت میں ابن ابیرق اور اس کی قوم والوں کو توبہ و استغفار کی ترغیب ہے۔