تفسیرِ مظہری
Tafseer-e-Mazhari · 4. An-Nisaa · Ayah 112
وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ع﴿112﴾
- وَمَنْاور جو
- يَّكْسِبْکمائے
- خَطِيْٓئَةًخطا
- اَوْ اِثْمًایا گناہ
- ثُمَّپھر
- يَرْمِ بِهٖاس کی تہمت لگا دے
- بَرِيْٓئًاکسی بےگناہ
- فَقَدِ احْتَمَلَتو اس نے لادا
- بُهْتَانًابھاری بہتان
- وَّاِثْمًااور گناہ
- مُّبِيْنًاصریح (کھلا)
Translation · Tafseer-e-Mazhari
اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا
Tafseer · Tafseer-e-Mazhari
ومن یکسب خطیءۃ اور جو شخص کوئی چھوٹا گناہ کرے یعنی ضغیرہ گناہ یا بلا ارادہ گناہ۔
او اثما . یا بڑا گناہ یعنی کبیرہ گناہ یا وہ گنا جو عمداً کیا ہو۔
ثم یرم بہ بریئا پھر کسی بےقصور پر اس کو ڈال دے جیسے ابن ابیرق نے لبید ؓ یا زید السمین پر اپنا جرم ڈالا تھا۔
فقد احتمل بہتانا سو اس نے بڑا بھاری بہتان اپنے اوپر لادا یعنی ایسا جھوٹ اٹھا یا جس سے عقل حیران رہ جائے۔
واثما مبینا اور کھلا ہوا گناہ کہ بےقصور پر تو جرم ڈال دیا اور مجرم کو جرم سے بری قرار دیا۔ 1 (1) [ زید بن اسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے حضرت ابوبکر ؓ کو جھانک کر دیکھا حضرت ابوبکر ؓ اپنی زبان کھینچ رہے تھے حضرت عمر ؓ نے کہا اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے جواب دیا اسی نے مجھے ہلاکت گاہوں میں ڈالا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جسم کا ہر حصّہ زبان کی تیزی کا شکوہ کرتا ہے (یعنی زبان کی تیزی کا دکھ ہر عضو کو پہنچتا ہے)]