مظہر القرآن
Mazhar-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 41
فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ﴿41﴾
- فَكَيْفَپھر کیسا۔ کیا
- اِذَاجب
- جِئْنَاہم بلائیں گے
- مِنْسے
- كُلِّ اُمَّةٍہر امت
- بِشَهِيْدٍایک گواہ
- وَّجِئْنَااور بلائیں گے
- بِكَآپ کو
- عَلٰيپر
- هٰٓؤُلَآءِان کے
- شَهِيْدًاگواہ
Translation · Mazhar-ul-Quran
پس کیا حال ہوگا اس وقت کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا لاویں گے اور اے محبوب تم کو ان سب لوگوں پر گواہ بنا کر لاویں گے
Tafseer · Mazhar-ul-Quran
حساب کے وقت حضرت نوح سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے منکر لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھا گا کہ باوجود انببیاء (علیہم السلام) کی ہدایتوں کے تم لوگ منکر کیوں رہے، یہ لوگ انبیاء کی ہدایت کا انکار کرکے صاف مکر جاویں کے، اس پر سب انبیاء کہیں گے کہ ھضرت محمد آخرالزماں نبی ﷺ ہیں، ان کی شریعت مین ہر زمانہ کے نبی کی ہدایت کرنے کی تصدیق موجود ہے، پھر آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کے لوگ حاضر کئے جاویں گے وہ گواہی دیں گے ۔ اس پر نادم ہوکر یہ منکر گوگ جانوروں کی خاک ہوتا ہوا دیکھ کر اپنے خاک ہونے کی آرزو کریں گے ۔ اس گواہی کے بعد آنحضرت ﷺ اپنی امت کی نیکیوں کی گواہی قیامت تک کی ادا فرماویں گے ۔ اسی واسطے امت کے اعمال آپ کے روبرو پیش ہوتے رہتے ہیں ، تاکہ گواہی کے لئے آپ کو امت کے اعمال کی اطلاع رہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے روز تم لوگ درود زیادہ پڑھا کرو اس دن تمہارے دورد روبرو پیش ہوتے ہیں ۔