تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 101. Al-Qaari'a · Ayah 4
یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ﴿4﴾
- يَوْمَ يَكُوْنُجس دن ہوں گے
- النَّاسُلوگ
- كَالْفَرَاشِپروانوں کی طرح
- الْمَبْثُوْثِبکھرے ہوئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن لوگ منتشر پتنگوں کے مانند ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس دن کوئی کسی کا ساتھ نہیں دے گا: اس دن جس صورت حال سے سابقہ پیش آئے گا یہ اس کا بیان ہے کہ اس دن لوگ پراگندہ پتنگوں کے مانند ہوں گے۔ نہ کسی کے ساتھ اس دن اس کا خاندان و قبیلہ ہو گا، نہ کسی کی کوئی جماعت و جمعیت ہو گی اور نہ وہ شرکاء و شفعاء ہی ہوں گے جن کے اعتماد پر لوگ نچنت ہیں۔ بلکہ لوگ قبروں سے متفرق نکلیں گے اور ہر ایک کو سابقہ صرف اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ سورۂ زلزال میں فرمایا ہے:
یَوْمَئِذٍ یَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّیُرَوْا أَعْمَالَہُمْ (الزلزال ۹۹: ۶)
’’اس دن لوگ قبروں سے متفرق ہو کر نکلیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔‘‘
سورۂ مومنون میں فرمایا ہے:
فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَا أَنۡسَابَ بَیْنَہُمْ یَوْمَئِذٍ وَلَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ۵ فَمَنۡ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۵ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا أَنفُسَہُمْ فِیْ جَہَنَّمَ خَالِدُوْنَ (المومنون ۲۳: ۱۰۱-۱۰۳)
’’پس جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے آپس کے نسبی رشتے اس دن ختم ہو جائیں گے اور وہ ایک دوسرے سے مدد کے طالب نہ ہو سکیں گے۔ پس جن کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پانے والے بنیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں پڑے۔‘‘
اس دن ہر شخص پر نفسی نفسی کی جو حالت طاری ہو گی اس کی تصویر سورۂ معارج میں یوں کھینچی گئی ہے:
وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ۵ یُبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہٖ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤْویْہِ ۵ وَمَنۡ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ (المعارج ۷۰: ۱۰-۱۴)
’’اور اس دن کوئی دوست اپنے دوست کو نہ پوچھے گا باوجودیکہ وہ ان کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ کاش! وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی اور اپنے بھائی اور اس خاندان کو، جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے، فدیہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے کو چھڑا لے جائے۔‘‘