Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 101. Al-Qaari'a · Ayah 6

  1. فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ﴿6﴾

    1. فَاَمَّاپس جو
    2. مَنْجو
    3. ثَقُلَتْبھاری ہوئے
    4. مَوَازِيْنُهٗاس کے وزن
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو جس کے پلے بھاری ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس دن صرف نیک اعمال کام آئیں گے: اس دن واحد کام آنے والی چیز آدمی کے نیک اعمال ہوں گے۔ ہر شخص کے اعمال تولے جائیں گے۔ جس کی میزان بھاری ہو گی وہ تو فلاح پائے گا اور جس کی میزان ہلکی رہ جائے گی وہ نامراد ہو گا۔ اس دن جو میزان نصب ہو گی وہ خاص میزان ہو گی جو لوگوں کے اعمال ہی کے تولنے کے لیے نصب کی جائے گی۔ سورۂ انبیاء میں اس کا ذکر یوں آیا ہے: وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ (الانبیاء ۲۱: ۴۷) ’’اور ہم قیامت کے دن کے لیے خاص میزان عدل مقرر کریں گے۔‘‘ اس دن اور اس میزان کا خاص وصف سورۂ اعراف میں یہ بیان ہوا ہے کہ اس دن وزن صرف حق کے اندر ہو گا، باطل کے اندر سرے سے کوئی وزن ہی نہیں ہو گا۔ یہ میزان ہر شخص کے عمل کو تول کر بتا دے گی کہ کس کا عمل حق اور وزن دار ہے اور کس کے اعمال بالکل باطل اور پھوک ہیں۔ فرمایا ہے: وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۵ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَأُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا أَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوْا بِآیَاتِنَا یَظْلِمُوْنَ (الاعراف ۷: ۸-۹) ’’اس دن وزن صرف حق کا ہو گا تو جن کے پلڑے بھاری ہوئے وہ تو فلاح پانے والے ہوں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہے وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا بوجہ اس کے کہ وہ ہماری آیات کی ناقدری کر کے اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘