تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 103. Al-Asr · Ayah 3
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ع﴿3﴾
- اِلَّاسوائے
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِاور انہوں نے عمل کئے نیک
- وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّاور ایک دوسرے کو وصیت کی حق کی
- وَتَوَاصَوْااور وصیت کی
- بِالصَّبْرِصبر کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
بجز ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کی ساری قدر و قیمت ایمان اور عمل صالح کے اندر مضمر ہے۔ خالق نے یہ عطا فرمائی ہی اس لیے ہے کہ انسان اس کو شیطان کے علی الرغم اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارے اور اس کے صلہ میں ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی سند اور ابدی جنت کا ٹکٹ حاصل کر لے۔ چن دنوں کے امتحان کے بدلے میں ابدی جنت کا انعام جس طرح کوئی معمولی انعام نہیں اسی طرح اس کو شیطان کی ترغیبات کے جال میں پھنس کر کھو بیٹھنا بھی کوئی معمولی محرومی نہیں ہے۔
ایمان کام مفہوم: ایمان کی تعریف اس کتاب میں جگہ جگہ بیان ہو چکی ہے۔ مختصر الفاظ میں یوں سمجھیے کہ خدا کو اس کی تمام صفات اور ان کے لازمی مقتضیات کے ساتھ پورے صدق دل سے تسلیم کرنا ایمان ہے۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں ایمان کا مفہوم ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
’’ایمان کی اصل ’امن‘ ہے۔ یہ لفظ لغت میں مختلف معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ’اٰمَنَہٗ‘ ’ای اعطاہ امنًا‘ (اس کو امن دیا) قرآن میں ہے:
’وَاٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍ‘ (قریش ۱۰۶: ۴)
(اور ان کو خوف سے امان دی)۔
’اٰمَنَ لَہٗ‘ صدقہ و اعتمد علیہ (اس کی تصدیق کی، اس پر اعتماد کیا) ’اٰمَنَ بِہٖ‘ ایقن بہ (اس کا یقین کیا)‘‘
’’قرآن مجید میں یہ لفظ مذکورہ تمام صورتوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے مشتقات میں سے لفظ ’مُؤْمِنٌ‘ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں آنے والے بندوں کو پناہ دیتا ہے۔‘‘
’’یہ ایک قدیم دینی اصطلاح بھی ہے۔۔۔ پس وہ یقین جو خشیت، توکل اور اعتقاد کے تمام لوازم و شرائط کے ساتھ پایا جائے، ایمان ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر، اس کی آیات پر، اس کے احکام پر ایمان لائے، اپنے آپ کو اس کے حوالہ کر دے، اس کے فیصلوں پر راضی رہے وہ مومن ہے۔‘‘
عمل صالح: ایمان کے بعد عمل صالح کی حیثیت اس کے لازمی مقتضیٰ کی ہے۔ جب حقیقی ایمان پیدا ہو گا تو وہ لازماً زندگی کے باطنی گوشوں کی طرح اس کے ظاہری اعمال کو بھی منور کرے گا۔ اگر ایمان سے اس کے تقاضوں کے مطابق عمل نہ پیدا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ایمان نے دل میں جڑ نہیں پکڑی۔ ایمان اور عمل میں مطابقت اور ہم آہنگی ہونا لازمی ہے۔ امام فراہی اپنی تفسیر میں اس نکتہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں:
’’قرآن مجید میں ایمان کے بعد عمل صالح کا جو ذکر آتا ہے وہ درحقیقت ایک طرح کی تفصیل و توضیح ہوتی ہے۔۔۔ اسی طرح اطاعت رسول کو اطاعت اللہ پر جو عطف کیا جاتا ہے یہ بھی عطف تفصیل ہوتا ہے۔۔۔ اس تفصیل کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ بعض اہم الفاظ کے بعض پہلو مخفی رہ جاتے ہیں۔ ایمان کے معاملہ میں اس توضیح کی ضرورت بالکل ظاہر ہے۔ ایمان کا محل دل اور عقل ہے۔ عقل اور دل کے معاملات میں انسان نہ صرف دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے بلکہ بسا اوقات خود بھی دھوکے میں رہتا ہے۔ وہ اپنے کو مومن سمجھتا ہے حالانکہ وہ مومن نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ایمان کے دو شاہد قرار دیے گئے۔ ایک قول اور دوسرا عمل۔ قول بھی چونکہ جھوٹ ہو سکتا ہے اس وجہ سے صرف زبان سے اقرار کرنے والا مومن نہیں قرار دیا گیا بلکہ ضروری ہوا کہ آدمی کا عمل اس کے ایمان کی تصدیق کرے۔۱ چنانچہ فرمایا ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا. (النسآء ۴: ۱۳۶)
اے وہ لوگو جو زبان سے ایمان لائے ہو، عمل سے ایمان لاؤ۔‘‘
اعمال حسنہ کو صالحات سے تعبیر کرنے کی حکمت: اعمال حسنہ کو ’صالحات‘ سے تعبیر کرنے کی حکمت امام فراہی نے ان الفاظ میں واضح فرمائی ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے اعمال حسنہ کو صالحات سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس لفظ کے استعمال سے اس عظیم حکمت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے کہ انسان کی تمام ظاہری و باطنی، دینی و دنیوی، شخصی و اجتماعی، جسمانی و عقلی صلاح و ترقی کا ذریعہ اعمال صالحہ ہی ہیں۔ یعنی عمل صالح وہ عمل ہوا جو انسان کے لیے زندگی اور نشوونما کا سبب بن سکے اور جس کے ذریعہ سے انسان ترقی کے ان اعلیٰ مدارج تک پہنچ سکے جو اس کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔‘‘
آگے چل کر اس نکتہ کی مزید وضاحت انھوں نے یوں فرمائی ہے:
’’اس نکتہ کو دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کائنات کی مجموعی مشین کا ایک پرزہ ہے۔ اس وجہ سے اس کے اعمال میں سے صالح صرف وہی ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی اس حکمت و تدبیر کے موافق ہوں جو اس نے اس مجموعی نظام کے لیے پسند فرمائی ہے۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے بازیچۂ اطفال نہیں بنایا ہے، بلکہ ایک خاص نظام حکمت ہے جو اس پورے کارخانہ میں جاری ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ اس کائنات کے اندر جو کچھ ہو اسی نظام حکمت کے تحت ہو، اس سے الگ ہو کر نہ ہو۔‘‘
انسان پر اس کے معاشرہ کا حق: ’وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ‘۔ اوپر والے ٹکڑے میں جو بات ارشاد ہوئی ہے اس کا تعلق اصلاً انسان کی انفرادی زندگی سے ہے لیکن انسان صرف انفرادی زندگی نہیں رکھتا بلکہ وہ فطرتاً معاشرتی مزاج رکھنے والی مخلوق ہے اور جہاں بھی پایا جاتا ہے کسی خاندان کے رکن اور معاشرہ کے ایک فرد کی حیثیت سے ہی پایا جاتا ہے۔ اگر اس نے اس کے خلاف کوئی اور روش زندگی کی اختیار کی ہے تو اپنے فطری مزاج کے تقاضے سے نہیں بلکہ کسی غیر فطری انحراف کے باعث اختیار کی ہے۔ خاندان اور معاشرہ کے ساتھ اس کا تعلق فطری ہے۔ وہ جس طرح اپنی مادی زندگی کی تعمیر و ترقی میں ان سے سہارا حاصل کرتا ہے اسی طرح اپنے اخلاقی و روحانی ارتقا میں بھی ان سے رہنمائی پاتا ہے۔ یہیں سے اس پر خاندان اور معاشرہ کا یہ حق قائم ہو جاتا ہے کہ وہ ان کی صلاح و فلاح کے فرض سے غافل نہ رہے ورنہ یہ چیز اس کی فتوت کے خلاف ہو گی۔ فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ ایمان و عمل کی صراط مستقیم سے آشنا ہوں وہ دوسروں کو بھی اس حق کی تلقین کریں جس کی راہ ان پر ایمان و عمل صالح کی زندگی نے کھولی ہے اور ساتھ ہی ایک دوسرے کو صبر و عزیمت کی بھی تلقین کریں اس لیے کہ صبر و عزیمت کے بغیر نہ حق کو اختیار کرنا اوراس پر قائم رہنا آسان ہے اور نہ اس کی دعوت دینا کوئی سہل بازی ہے۔
ایک دقیق نکتہ: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بات یوں نہیں فرمائی کہ ’وہ ایمان اور عمل صالح کی دعوت دیتے ہیں‘ بلکہ یوں فرمائی کہ ’وہ حق اور صبر کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں‘۔ اس اسلوب نے وہ باتیں بھی اپنے اندر سمیٹ لی ہیں جو پہلے ٹکڑے میں ہیں اور ان کے اوپر مزید نہایت اہم اضافے بھی کر دیے ہیں۔ لفظ ’حق‘ کے اندر ایمان بدرجۂ اولیٰ داخل ہے اس لیے کہ وہ خدا کا حق اور سب سے بڑا حق ہے۔ اسی طرح اعمال حسنہ کا تعلق بھی یا تو خدا کے حقوق سے ہے یا بندوں کے حقوق سے اس وجہ سے وہ بھی اس میں داخل ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ وہ یہ ساری باتیں حقوق اور فرائض کی طرح ادا بھی کرتے ہیں، دوسروں کو اس کی تلقین بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ حکمت بھی لوگوں کو بتاتے ہیں کہ حقوق کو ادا کرنا کوئی سہل بازی نہیں ہے، اس کے لیے صبر و عزیمت ضروری ہے۔ جن کے اندر یہ وصف نہیں ہو گا ان کے لیے حقوق کا ادا کرنا نہایت مشکل ہے۔
حق کا مفہوم: ’حق‘ کی وضاحت امام فراہی نے اپنی تفسیر میں یوں فرمائی ہے:
’’ ’حق‘ اصل میں کہتے تو ہیں موجود و قائم کو لیکن استعمال میں اس کے معنی مختلف ہو گئے ہیں۔ کم از کم تین معنوں میں تو اس کا استعمال معروف ہے:
۱۔ وہ بات جس کا واقع ہونا قطعی ہو۔
۲۔ وہ بات جو عقل کے نزدیک مسلم ہو۔
۳۔ وہ بات جو اخلاقاً فرض ہو۔‘‘
ان تینوں معنوں کی تائید میں قرآن سے دلائل نقل کرنے کے بعد مولانا فراہی فرماتے ہیں:
’’باقی رہا اس کا خاص مفہوم یعنی غریبوں اور کمزوروں کی ہمدردی تو وہ اسی عام معنی سے نکلا ہوا ہے۔ گویا اہل عرب کے نزدیک سب سے بڑا حق یہی ہے جو ہر صاحب استطاعت پر لازم ہے اور جو ہر مستحق کو حاصل ہونا چاہیے جو عقل کے نزدیک مسلم اور تمام اچھے لوگوں کے نزدیک بالکل متعین و معروف ہے۔ اسی سبب سے احسان کو معروف کہتے ہیں یعنی ایک چیز جو ہر شخص کے نزدیک جانی پہچانی ہوتی ہے اور تمام معقول لوگوں کے اندر مسلم قانون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق کے معنی اگر غریبوں کی ہمدردی کے لیے جائیں تو اس کے اندر ان تمام معانی کی جھلک موجود ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔‘‘
صبر کی تحقیق: ’صبر‘ کی تحقیق کے ذیل میں مولانا فراہی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’لیکن یاد رکھنا چاہیے عربوں کے نزدیک صبر کوئی عجز و تذلل کے قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو بے بسوں اور درماندوں کا شیوہ ہے بلکہ ان کے نزدیک یہی تمام قوت و استقامت کی بنیاد ہے۔ کلام عرب میں یہ لفظ بہت استعمال ہوا ہے اور اس کے تمام استعمالات سے اسی حقیقت کی تائید ہوتی ہے۔ حاتم طائی کہتا ہے:
وغمرۃ موت لیس فیھا ھوادۃ
یکون صدور المشرنی جسورھا
(موت و ہلاکت کے کتنے ہولناک دریا جن پر تلواروں کے پل تھے)
صبرنا لہ فی نھکھا ومصابھا
باسیا فتا حتّٰی یبوخ سعیرھا
(ہم نے ان کی تمام آفات کے مقابلہ میں اپنی تلواروں کے ساتھ ثابت قدمی دکھائی یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے پڑ گئے)۔‘‘
بعض دوسرے مشہور شاعروں کے کلام سے نظائر پیش کرنے کے بعد مولانا فراہی نے ’صبر‘ کا مفہوم خود قرآن سے ان الفاظ میں واضح فرمایا ہے:
’’ ’صبر‘ کا اصل مفہوم قرآن نے خود کھول دیا:
وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ. (البقرہ ۲: ۱۷۷)
اور صبر کرنے والے سختی میں، تکلیف میں اور لڑائی کے وقت۔‘‘
’’اس آیت میں صبر کے تین موقعے ذکر ہوئے ہیں: غربت، بیماری اور جنگ۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ تمام مصائب و شدائد کے سرچشمے یہی تین ہیں جو ان تینوں امتحانوں میں ثابت قدم رہتے ہیں وہ صابر ہیں۔‘‘
حق و صبر کے باہمی تعلق کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مولانا فراہی فرماتے ہیں:
’’خلاصہ ان تفصیلات کا یہ ہے کہ ’حق‘ تمام بھلائیوں کے دروازے کھولتا ہے اور ’صبر‘ تمام برائیوں کے دروازے بند کرتا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ’حق‘ اصل محبوب و مطلوب ہے اور ’صبر‘ اس کے لیے جوش طلب اور سرگرمی ہے۔‘‘
’’اہل بصیرت سے یہ راز مخفی نہیں ہے کہ سعادت کے حاصل ہو جانے کے بعد اصلی چیز اس پر جمے رہنا ہے۔ اب غور کرو، دو لفظوں۔۔۔ حق اور صبر۔۔۔ کے اندر تمام سعادتیں اور بھلائیاں کس خوبی و اختصار کے ساتھ جمع ہو گئی ہیں۔ اور ان دونوں کے درمیان کس قدر گہرا اور وسیع تعلق ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یہاں درحقیقت ایک ہی جڑ سے کئی شاخیں نکلی ہیں۔ ایمان ایک اصل اور مرکز کی حیثیت سے ہے۔ اس کے بعد عمل صالح کا ذکر اس کی تفصیل کی حیثیت سے آیا۔ اسی طرح حق چونکہ دل و دماغ دونوں کو محبوب ہے اور اسی پر ان دونوں کے عروج و کمال کا انحصار ہے اس وجہ سے اس کی محبت کے نتیجہ کے طور پر صبر کا بیان ہوا۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کے لیے آدمی کے اندر ثابت قدمی اور استقامت پیدا ہو۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ یہ ثابت قدمی اور استقامت محبوب کی حیثیت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ جو شے جس قدر محبوب ہو گی اس کے لیے اسی قدر پامردی و استقلال کا جوش ابلے گا۔ مدافعت، غضب اور غیرت کے جذبات کا ظہور ہر شے کے لیے یکساں نہیں ہوتا بلکہ مختلف درجہ کا ہوتا ہے۔ دل کو جو شے جس قدر عزیز ہوتی ہے اس کے لیے اسی درجہ کا جذبۂ غیرت و حمیت بھڑکتا ہے۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ کے غضب اور انتقام کی بنیاد بھی یہی ہے کہ اس کو حق عزیز و محبوب ہے اس وجہ سے جو لوگ اس کو پامال کرتے ہیں ان پر اس کا قہر و غضب بھڑکتا ہے۔ جو شے تم کو عزیز و محبوب ہو گی کیا تم اس کی تحقیر و اہانت چپ چاپ برداشت کر لو گے؟ اس کی حمایت کے لیے تمہاری غیرت ضرور جوش میں آئے گی۔ ماں اپنے بچہ سے محبت کرتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ یہ محبت تنہا نہیں ہوتی بلکہ اپنے ساتھ ایک مجنونانہ غیرت بھی رکھتی ہے اور جب وقت آتا ہے ماں کو بچہ کی مدافعت میں قربان کر دیتی ہے۔ یہی جوش غیرت و حمایت قوموں میں اپنے قومی حقوق و مطالبات کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مسکین کبوتری بھی اپنے انڈوں اور بچوں کے لیے اپنے اندر محبت کا جذبہ اور غیرت کا جوش رکھتی ہے۔ اگر تم اس کے انڈوں اور بچوں کو اس سے چھیننا چاہو گے تو وہ اپنے کمزور پروں سے ضرور تم کو دفع کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر درحقیقت محبت حق سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘
ایک اور نازک سوال کا جواب: اب اس سوال پر غور کیجیے کہ ’ایمان و عمل صالح‘ اور ’تواصی بالحق والصبر‘ میں باہمدگر کیا تعلق ہے؟ استاذ امام فراہی اس سوال کا یہ جواب دیتے ہیں:
’’ ’وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر حق اور صبر کی صفات موجود ہیں اور یہ ان پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی ان کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ مضمون آیت کے اندر مضمر ہے اور اس کی تصریح نہیں کی گئی ہے۔ اس کی وجہ اول تو یہ ہے کہ ’اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‘ کے اندر یہ بات موجود تھی۔ ثانیاً وعظ بے عمل کی برائی اس قدر واضح ہے کہ اس مدح کے محل میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ لوگ دوسروں کو حق و صبر کی نصیحت کریں گے اور خود ان اوصاف سے محروم ہوں گے۔‘‘
’’اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح ایمان سے عمل صالح وجود میں آیا اسی طرح ’عمل صالح‘ سے ’تواصی‘ وجود میں آیا۔ جس شخص کی نگاہوں میں ’حق‘ محبوب ہو جائے گا اور وہ اس کی خاطر صبر و استقامت کی کڑیاں بھی جھیلنے پر آمادہ ہو گا اس کے بارے میں لازماً اس کا علم، اس کی محبت اور اس کی غیرت بڑھ جائے گی۔ وہ صرف یہی نہیں چاہے گا کہ خود ہی اس سے محبت کرے بلکہ یہ بھی چاہے گا کہ ساری دنیا اس سے محبت کرے اور وہ جہاں کہیں بھی حق کو مظلوم و مقہور اور باطل کو غالب و فتح مند دیکھے گا، تڑپ اٹھے گا اور ایک غیور و اولوالعزم انسان کی طرح دوسروں کو بھی ابھارے گا کہ وہ حق کی حمایت کے لیے کمربستہ ہوں۔ اس کا دوسروں کو یہ ابھارنا بھی خود اس کے اپنے ہی جذبۂ حمیت حق کا ایک قدرتی نتیجہ اور اسی کا ایک حصہ ہے۔ پس یہاں ’تواصی‘ کا ذکر ’عمل صالح‘ کے ایک جزو اور اس کی توضیح کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔‘‘
_____
۱ یہ امر واضح رہے کہ یہاں زیر بحث حقیقی ایمان ہے، فقہی اور قانونی ایمان پر بحث نہیں ہے۔ جو لوگ فقہی اور قانونی ایمان کی نوعیت سمجھنا چاہتے ہوں وہ اس بحث کو اس کے محل میں دیکھیں۔ مولانا فراہی نے اس کے بعض اہم پہلوؤں کی طرف تفسیر سورۂ عصر میں اشارے کیے ہیں اور ہم نے بھی اس کتاب میں بعض جگہ اس کے بعض پہلو واضح کیے ہیں۔