Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 107. Al-Maa'un · Ayah 6

  1. الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ﴿6﴾

    1. الَّذِيْنَجو کہ
    2. هُمْوہ
    3. يُرَآءُوْنَدکھاوا کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو ریاکاری کرتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نمازوں کی بے حقیقتی کی وضاحت: یہ ان کی نمازوں کی بے حقیقتی کی وضاحت ہے کہ یہ محض دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی بخیل ہیں۔ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کی نمازوں کے بے روح و بے جان ہونے پر دو چیزوں سے دلیل قائم کی ہے۔ ایک ان کی ریاکاری سے دوسرے ان کی خِسّت سے۔ نماز کی اصل حقیقت اخلاص ہے۔ یعنی وہ صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کی خوشنودی اور رضا طلبی کے لیے پڑھی جائے۔ اس کے سوا اگر کوئی اور غرض اس میں شامل ہو جائے تو نماز بالکل باطل اور اپنے اصل مقصد کے اعتبار سے نہ صرف بے نتیجہ بلکہ نہایت مہلک ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی نمازیں اول تو ان کے فساد عقیدہ کے سبب سے اخلاص سے محروم تھیں ثانیاً وہ پڑھتے بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، محض دکھاوے ہی کے لیے تھے تاکہ ان کے عوام ان کو مذہبی سمجھیں۔ اس طرح کی نماز ظاہر ہے کہ محض ایکٹنگ ہوتی ہے جس کا زندگی کے حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوا کرتا۔ جس طرح کسی ڈرامے میں مجنوں کا پارٹ ادا کر دینے سے کوئی مجنوں نہیں بن جاتا اسی طرح اس قسم کے لوگ مسجد میں آ جانے اور رکوع و سجود اور قیام و قعود کی نمائش کر دینے سے نمازی نہیں بن جاتے۔ علاوہ ازیں ان لوگوں کی خِسّت بھی اس بات کی دلیل تھی کہ ان کی نمازیں بالکل بے روح و بے جان ہیں۔ نماز کی اصل روح اپنے رب کی شکرگزاری ہے۔ جو بندہ اپنے رب کا شکرگزار ہوتا ہے وہ خسیس و لئیم نہیں ہوتا بلکہ فیاض و کریم ہوتا ہے۔ وہ اپنے رب کی نعمتوں میں دوسروں کو شریک کرتا اور اس کو ان کا حق سمجھتا ہے۔ اس کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ جب میرے رب نے مجھے بخشا ہے تو اس کی شکرگزاری کا تقاضا یہ ہے کہ میں اس میں ان لوگوں کو شریک کروں جو اس سے محروم ہیں اور یہ جذبہ اس پر اس قدر غالب ہوتا ہے کہ بسا اوقات وہ اپنی ضرورت کو نظرانداز کر کے دوسروں کی مدد کرنے میں لذت و حلاوت محسوس کرتا ہے۔ نماز اور انفاق کے باہمی تعلق پر اس کتاب میں جگہ جگہ بحث ہو چکی ہے۔ فلسفۂ دین کے اعتبار سے جذبۂ شکر کی تحریک سے سب سے پہلے نماز وجود میں آتی ہے اور پھر نماز انفاق کے لیے محرک بنتی ہے اور پھر انہی دو چیزوں پر شریعت کا پورا نظام قائم ہے۔