تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 107. Al-Maa'un · Ayah 7
وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ع﴿7﴾
- وَيَمْنَعُوْنَروکتے ہیں (نہیں دیتے)
- الْمَاعُوْنَعام ضرورت کی چیز
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ادنیٰ چیزوں میں بھی بخالت کرتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ماعون کا مفہوم: ’یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ‘۔ لفظ ’مَاعُوْنٌ‘ روزمرہ استعمال کی ان چیزوں کے لیے آتا ہے جن کے عاریت لین دین میں کوئی قباحت خیال نہیں کی جاتی بلکہ ہر پڑوسی اپنے پڑوسی سے ان کو بعض اوقات مانگنے پر مجبور ہوتا ہے اور ان کا مانگنا اور دینا دونوں، اچھے معاشرہ میں حسن معاشرت کی علامت خیال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کسی پڑوسی کو آپ سے کسی ضرورت سے ایک چارپائی یا بستر، یا کوئی برتن یا چھری یا دیا سلائی یا اسی طرح کی کوئی اور چیز مانگنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے تو ہر شریف پڑوسی اس کی ضرورت نہایت خوش دلی سے پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ صرف وہی لوگ اس طرح کے موقع پر تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو نہایت لئیم ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لئیم اگر نماز پڑھتے ہیں تو ان کی نماز محض نمائش ہوتی ہے۔ اس نماز کے لیے نہ کوئی محرک ان کے دل کے اندر ہوتا اور نہ یہ نماز کسی پہلو سے ان کے دل پر اثرانداز ہوتی۔ بلکہ نمائش ہونے کے سبب سے یہ ان کی قساوت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
ایک شبہ کا ازالہ: بعض لوگوں نے اسی ’فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ .........الاٰیۃ‘ والے ٹکڑے کی بنا پر اس سورہ کو مدنی قرار دیا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اس قسم کی ریاکارانہ نماز پڑھنے والے تو مدنی دور میں پیدا ہوئے ہیں، مکی دور میں اس قسم کے لوگ کہاں تھے؟ اس غلط فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ اس سے انھوں نے وہ نماز مراد لی ہے جس کا حکم اسلام نے دیا ہے۔ حالانکہ اس سے مراد، جیسا کہ ہم نے وضاحت کی، وہ نماز ہے جس کے قیام کا حکم حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور ان کی ذریت کو بیت اللہ کی تعمیر کے ساتھ ہی دیا گیا تھا اور جس کی روایت بعد کے ادوار میں بھی باقی رہی اگرچہ اس کا حلیہ بدعات کے غلبہ کے سبب سے بہت بگڑ گیا تھا۔