Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 102

  1. وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ﴿102﴾

    1. وَاور
    2. كَذٰلِكَایسی ہی
    3. اَخْذُپکڑ
    4. رَبِّكَتیرا رب
    5. اِذَآ اَخَذَجب اس نے پکڑا (پکڑتا ہے)
    6. الْقُرٰيبستیاں
    7. وَهِىَاور وہ
    8. ظَالِمَةٌظلم کرتے ہوں
    9. اِنَّبیشک
    10. اَخْذَهٗٓاس کی پکڑ
    11. اَلِيْمٌ شَدِيْدٌدردناک سخت
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تیرے رب کی پکڑ، جب کہ وہ بستیوں کو ان کے ظلم میں پکڑتا ہے، اسی طرح ہوتی ہے۔ بیشک اس کی پکڑ بڑی ہی دردناک اور سخت ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ۔ قریش کو تنبیہ : یعنی جب خدا قوموں اور بستیوں کو ان کے ظلم، ان کی سرکشی اور ان کے طغیان کی سزا دیتا ہے تو اسی طرح دیتا ہے جس طرح ان قوموں کو دی جن کی سرگزشتیں اوپر بیان ہوئیں۔ اس وقت خدا کی پکڑ بڑی دردناک اور سخت ہوتی ہے۔ یہ بات نبی ﷺ کو مخاطب کر کے قریش کو سنائی گئی ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ اب ان کی قوم بھی اسی میزان میں ہے جس میں دوسری قومیں تولی جا چکی ہیں۔ خدا نے جو معاملہ ان قوموں کے ساتھ کیا ہے کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کے ساتھ اس سے کوئی مختلف معاملہ کرے۔